مضامین بشیر (جلد 2) — Page 973
رض مضامین بشیر دانستہ ہر دفعہ انہیں پھاڑ کر رڈی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے اور ہر دفعہ بقول شخصے ” انتظار کیا ہے کہ خط کے اندر درج شدہ وعید کب آتا ہے لیکن آج تک خدا کے فضل سے اس وعید کے حملہ سے محفوظ رہا ہوں اور انشاء اللہ آئندہ بھی رہوں گا اور میں امید کرتا ہوں کہ اگر دوسرے لوگ بھی غور کریں تو انہیں بھی یہی نظر آئے گا کہ ایسے خطوں کے وعدے اور وعید ، سب محض خیالی بُت ہیں جنہیں سچے مسلمانوں کو اپنے دل کے کعبہ سے اس دعا کے ساتھ نکال پھینکنا چاہیے کہ قُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا اسلام میں ان لغویات کے لئے کوئی جگہ نہیں۔(۶) کہا جا سکتا ہے کہ ان خطوں میں بعض اوقات نیک باتیں بھی درج ہوتی ہیں۔میں مانتا ہوں کہ بظاہر یہ درست ہے اور میں نے ایسے خطوں میں عام نیک باتوں کے علاوہ مسنون دعائیں بھی دیکھی ہیں لیکن کیا اگر شیطان کسی نیک انسان کا جبہ پہن کر آ جائے تو اسے دوست سمجھا جا سکتا ہے؟ آخر وہ شیطان ہی تو تھا جو ایک دفعہ حضرت معاویہ کو صبح نماز کے لئے جگانے آیا تھا مگر اس کی وجہ سے وہ ولی اللہ نہیں بن گیا بلکہ شیطان کا شیطان رہا اور اس کی نیت بھی حضرت معاویہ کو ایک بڑے ثواب سے محروم کرنا تھی گو بظاہر اس کی تحریک نیک تھی اور پھر کیا قرآن شریف یہ نہیں فرما تا کہ جَاءَكَ الْمُنْفِقُونَ قَالُوا نَشْهَدُ إِنَّكَ لَرَسُولُ اللهِ وَ اللهُ يَعْلَمُ إِنَّكَ لَرَسُولُهُ وَاللهُ يَشْهَدُ إِنَّ الْمُنْفِقِينَ تَكْذِبُونَ & یعنی اے رسول جب تیرے پاس منافق لوگ آتے ہیں تو بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ کہتے ہیں کہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ خدا کے رسول ہیں خدا جانتا ہے کہ تو بلا ریب اس کا رسول ہے مگر خدا اس کے ساتھ یہ بھی گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق لوگ بہر حال اپنے اس دعوی میں جھوٹے اور کذاب ہیں اس آیت سے پتہ لگتا ہے کہ بعض اوقات ایک بات اپنی ذات میں سچی ہوتی ہے مگر چونکہ وہ ایک شخص کے مونہہ سے جھوٹے طور پر نکلتی ہے اس لئے خدا کے نزدیک ایسے دعوئی کا کوئی وزن نہیں ہوتا اور خدا اس بات کے کہنے والے کو بر ملا طور پر جھوٹا قرار دیتا ہے۔پس خواہ اس قسم کے گمنام خطوں کا مضمون سچا ہی ہو ہم ان خطوں کے لکھنے والوں کو بہر حال جھوٹا کہیں گے کیونکہ انہوں نے رستہ جھوٹا اختیار کیا۔حق یہ ہے کہ مومنوں کو اسلام کی تعلیم کی حفاظت کے لئے شیطان کی ہر تحریک کے مقابلہ پر چوکس رہنا چاہیئے۔خواہ وہ ان کے سامنے کوئی لباس پہن کر آئے۔کسی نے کیا خوب کہا ہے :- به من ہر رنگے کہ خواہی جامعه می پوش انداز قدت را می بشناسم ( ۷ ) آخری بات یہ ہے کہ بعض لوگ کہا کرتے ہیں کہ اگر ایسے خطوں میں کوئی نیک بات یا