مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 971 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 971

۹۷۱ مضامین بشیر گشتی چٹھیوں کی لغویت مومنوں کو جھوٹے لالچوں اور دھمکیوں سے متاثر نہیں ہونا چاہئے ایک عرصہ سے ہمارے ملک میں یہ لغویت شروع ہے کہ کوئی شخص ایک گمنام چٹھی اپنے چند دوستوں اور واقف کاروں کے نام لکھ کر بھجوا دیتا ہے اور اس چٹھی میں اپنے مخاطبین سے درخواست کرتا ہے کہ آگے وہ بھی اسی طرح اپنے اتنے دوستوں اور واقف کاروں ( عموما یہ تعدا دنو ہوتی ہے ) کے نام اس چٹھی کا مضمون لکھ کر بھجوا دیں اور اس طرح یہ گمنام چیٹھی ملک میں چکر لگاتی پھرتی ہے۔چٹھی کا مضمون آگے جاری کر دیا تو اتنے عرصہ کے اندر اندر ( یا بلاتعیین عرصہ ) آپ کو کوئی غیر معمولی فائدہ پہنچے گا اور نہ اس عرصہ میں آپ کو کسی بھاری نقصان کے لئے تیار رہنا چاہئے وغیرہ وغیرہ اور سادہ لوح اور توہم پرست لوگ بعض اوقات اس چٹھی کے مضمون سے متاثر ہو کر اور بعض اوقات اس کے بشارت کے پہلو سے ” لالچ میں آکر اور بعض اوقات اس کے اندار اور دھمکی سے ڈرکر اس چٹھی کے مضمون کو اسی طرح کی گمنام چٹھیوں کے ذریعہ آگے جاری کر دیتے ہیں اور اس طرح یہ لغویت کا چکر قائم رہتا ہے اور محکمہ ڈاک کے سوا کوئی فرد یا ادارہ اس دور سوء سے فائدہ نہیں اٹھاتا۔گو یہ علیحدہ بات ہے کہ بعض تو ہم پرست لوگوں کو بعض فرضی فوائد یا خیالی نقصانات نظر آنے لگ جاتے ہوں۔چونکہ ایسی گمنام چٹھیاں بعض اوقات مجھے بھی پہنچی ہیں اس لئے مجھے شبہ ہوتا ہے کہ شائد ہماری جماعت کے بعض سادہ مزاج نو جوان بھی اس چکر میں پھنس گئے ہوں گے۔گو یہ بھی ممکن ہے کہ یہ نظر عنایت کسی غیر از جماعت دوست کی طرف سے ہو جس نے مجھے بھی اس مخفی تجارت کے فوائد سے متمتع کرنا چاہا ہو۔بہر حال خواہ ان چٹھیوں کا لکھنے والا کوئی ہو۔میں دوستوں سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ یہ ایک سراسر لغو اور بے ہودہ کام ہے جس سے سمجھدار لوگوں کو پر ہیز کرنا چاہئے اور اس بات کو سمجھنے کے لئے صرف سادہ سی دلیلیں کافی ہیں۔(۱) سب سے پہلی اور ضروری بات یہ ہے کہ یہ دعوی کرنا کہ ایسا کرنے سے فائدہ ہوگا اور ایسا نہ کرنے سے نقصان ہو گا۔یہ تو صرف خدا کا کام ہے جو دنیا کی تقدیر کا خالق و مالک ہے اور یا پھر یہ ان لوگوں کا کام ہے جو خدا کے قانون قضاء وقد ریا قانون شریعت کو سمجھ کر ان قانونوں کے ماتحت لوگوں کو