مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 963 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 963

۹۶۳ مضامین بشیر وو عیدالاضحیٰ کی قربانیاں حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کا ایک فیصلہ کن فتویٰ جیسا کہ ناظرین کو معلوم ہے گزشتہ ایام میں عید الاضحی کی قربانی کے متعلق میرے تین مضامین الفضل ، میں اوپر تلے شائع ہو چکے ہیں ( ملاحظہ ہو الفضل ۱۸، ۲۰،۱۹ / اگست ۱۹۵۰ء ) اس کے بعد مجھے ایک دوست کے ذریعہ علم ہوا ہے کہ آج سے ۳۸ سال قبل یعنی ۱۹۱۲ء میں بھی یہ سوال اٹھا تھا جبکہ ترکوں کی امداد کی غرض سے ( جو اس وقت ایک جنگ کی مصیبت میں مبتلا تھے ) بعض مسلمانوں نے تجویز کی تھی کہ عید الاضحی کی قربانی کو روک کر اس کی جگہ ترکوں کو نقد روپیہ بھجوا دیا جائے۔ان ایام میں اخبار ”زمیندار“ لاہور میں کسی مسلمان وکیل کا ایک مضمون بھی شائع ہوا تھا جس میں مسلمان علماء سے اپیل کی گئی تھی کہ وہ اس مسئلہ کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کریں۔ان مسلمان علماء میں ہماری جماعت کے خلیفہ اول حضرت مولوی نور الدین صاحب نوراللہ مرقدہ کا نام نامی بھی شامل تھا۔اس پر ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب مرحوم نے اخبار ”زمیندار“ کا یہ پرچہ حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بھجوا کر درخواست کی کہ حضور اس استفسار کے متعلق اپنے خیالات کا اظہار فرما ئیں۔اس کے جواب میں جو خط حضرت خلیفہ اول کی طرف سے ڈاکٹر صاحب موصوف کو موصول ہوا وہ انہوں نے انہی ایام میں اپنے نوٹ کے ساتھ ایک اشتہار کی صورت میں شائع کر دیا اور میں اس اشتہا ر کو ( گو افسوس ہے کہ مجھے اس کی صرف نقل ہی مل سکی ہے ) ناظرین کی دلچسپی اور راہ نمائی کی خاطر درج ذیل کرتا ہوں۔حضرت خلیفہ اول رضی اللہ عنہ نے اپنے اس فتوی میں بعینہ اسی خیال کا اظہار فرمایا ہے جو میں اپنے مضمونوں میں ظاہر کر چکا ہوں۔فالحمد الله علی ذالک۔بہر حال ڈاکٹر مرزا یعقوب صاحب کے مطبوعہ اشتہار کی نقل درج ذیل کی جاتی ہے۔ย فتوی متعلق قربانی عید الاضحی اخبار زمیندار لا ہور میں ایک وکیل صاحب نے عید کی قربانیوں کے متعلق حضرت مولوی نورالدین صاحب ( خلیفہ اسیح ) سے استفسار کیا تھا۔میں نے آپ کی خدمت میں زمیندار کا یہ پر چہ بھیج دیا۔