مضامین بشیر (جلد 2) — Page 959
۹۵۹ مضامین بشیر میں عام فضا میں کیا تبدیلی پیدا کی ہے۔بے شک یہ تول ذرا مشکل تول ہے لیکن خدا کا تر از و بہر حال کسی چیز کو حساب سے باہر نہیں رہنے دیتا اور اس کے دیئے ہوئے عرفان کی طفیل سے علم میں راسخ لوگ بھی کافی حد تک صحیح اندازہ کر سکتے ہیں اور دراصل یہ اسی روحانی نبض شناسی کا نتیجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آج سے پینتالیس سال قبل جب کہ مغربی ممالک کی مادیت اپنے معراج کو پہنچی ہوئی تھی فرمایا کہ :- آرہا ہے اس طرف احرار یورپ کا مزاج نبض پھر چلنے لگی مردوں کی نا گہہ زندہ وار 2 اس لطیف شعر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام افراد کے مسلمان ہونے کا ذکر نہیں فرماتے کیونکہ اس زمانہ میں یورپ کے مسیحی ممالک میں حقیقہ کوئی نو مسلم تھا ہی نہیں بلکہ اپنی روحانی فراست کے نتیجہ میں مغربی ممالک کی اس مجموعی فضاء کی تبدیلی کا ذکر فرماتے ہیں جو آہستہ آہستہ تثلیث کی گندی دلدل سے نکل کر تو حید کے پاک وصاف چشمہ کی طرف آ رہی تھی کیونکہ یہی وہ طریق ہے جس میں اس زمانہ کی مادہ پرست قوموں کا بالآخر اسلام کے مقابلہ میں شکست کھانا مقدر ہے۔پس گو تعداد کی ترقی بہر حال ایک نظر آنے والی چیز ہے اور دیکھنے والوں کی توجہ اس طرف سے ہٹائی نہیں جاسکتی اور ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اسے اپنے لئے موجب فخر قرار دیا ہے (اور کون سچا مسلمان ہے جسے اپنے آقا کے فخر میں حصہ دار بننے کی تڑپ نہ ہو ) مگر پھر بھی اصولاً ایک مبلغ کے کام کا اصل معیار اس کے نو مسلموں کی تعدا د نہیں بلکہ اس کی وہ مخلصانہ کوشش اور جد و جہد ہے جس کے ذریعہ وہ صداقت کا پیغام لوگوں تک پہنچاتا ہے اور اگر وہ ایک فرد واحد کو بھی مسلمان نہیں بنا سکتا مگر اس کی کوشش معیار کے مطابق پوری اور اپنے ماحول کے لحاظ سے کچی اور بے داغ ہے تو وہ یقیناً اس مبلغ سے بہتر ہے جس نے بظاہر سینکڑوں نو مسلم بنائے مگر اس کی کوشش اس معیار کو نہیں پہنچتی جس کی اسلام اپنے خادموں سے توقع رکھتا ہے اور موجودہ زمانہ میں تو یورپ اور امریکہ کے ممالک میں خصوصاً مبلغوں کی کامیابی کا اصل معیار فی الحال نو مسلموں کی تعداد نہیں ہے بلکہ اصل معیار یہ ہے کہ وہ احرار یورپ کا مزاج بدلنے میں کس حد تک کامیاب ہوئے ہیں کیونکہ جہاں تک میری عقل کام کرتی ہے دنیا کا آئندہ انقلاب افراد میں ہو کر قوموں تک نہیں پہنچے گا بلکہ قوموں میں ہو کر افراد تک پہنچے گا اور یہی اس مخصوص موت کی عقلی تفسیر ہے جو حدیثوں میں دجال کے انجام کے متعلق بیان ہوئی ہے۔خلاصہ کلام یہ کہ تبلیغ کے طریق کے متعلق تو اسلام یہ اصولی تعلیم دیتا ہے کہ وہ مندرجہ ذیل مبارک