مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 948 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 948

مضامین بشیر ۹۴۸ شریعت کے میدان کی عام نیکی بالکل اور چیز ہے۔شریعت کے قانون کی نیکی بے شک قانون قدرت کے حادثات سے نہیں بچا سکتی کیونکہ جس طرح شریعت کا میدان خدائی حکومت کا ایک مستقل صوبہ ہے اسی طرح قضاء وقدر کا میدان بھی خدائی حکومت کا ایک دوسرا مستقل صوبہ ہے اور وہ ایکدوسرے سے آزاد بھی ہیں مگر دعا کو ایک بالکل جدا گانہ حیثیت حاصل ہے کیونکہ دعائمل کی نیکی کا کام نہیں بلکہ خدا کی مرکزی حکومت سے اپیل کرنے کا نام ہے اور خدا کی مرکزی حکومت کو بہر حال اپنے ماتحت صوبوں میں ان کی عام اٹانومی کے باوجود دخل دینے کا اختیار ہے بلکہ اگر خدا جیسی ہستی کے لئے ایسا اختیار تسلیم نہ کیا جائے تو وہ حقیقہ خدا ہی نہیں رہتا۔لہذا دعا کو جو خدا کے حضور اپیل کا رنگ رکھتی ہے۔شریعت کی عام نیکی (یعنی نماز روزہ وغیرہ ) پر قیاس کرنا ہرگز درست نہیں۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ فرماتے ہیں کہ : لا يرد القضاء الا الدعاء د یعنی قضاء وقدر کے حادثات کو دعا کے سوا اور کوئی بات نہیں بدل سکتی۔“ ان نہایت درجہ حکیمانہ الفاظ میں یہی اشارہ کیا گیا ہے کہ گوشریعت کی عام نیکی قضاء و قدر کے حادثات کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتی کیونکہ یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے سے آزاد اور جدا گانہ میدانوں سے تعلق رکھتی ہیں مگر دعا کو یہ طاقت ضرور حاصل ہے کہ وہ قضاء و قدر کے حادثات کو بدل دے کیونکہ دعا خدا کی مرکزی حکومت سے اپیل کرنے کا نام ہے اور خدا کو بہر حال اپیل سننے کا اختیار حاصل ہے اور خدا نے دعا کا قانون اس لئے جاری فرمایا ہے کہ تا دنیا میں اس کے مالکانہ تصرف کا شان قائم رہے اور تا نیک فطرت لوگوں کے لئے اس کے ذاتی تعلق کی طرف ایک دائمی کشش کا سامان مہیا کیا جائے۔اسی طرح مصیبت کے وقت صدقہ و خیرات کرنا بھی دراصل دعا ہی کی ایک قسم ہے کیونکہ صدقہ کے ذریعہ انسان گویا بزبان حال خدا سے اپیل کرتا ہے کہ اے میرے آقا جس طرح میں تجھے راضی کرنے کے لئے تیرے مصیبت زدہ بندوں کی تکلیف کو دور کرتا ہوں اسی طرح تو بھی میری تکلیف اور میرے دکھ کو دور فرما اور مجھے اس مصیبت سے نجات بخش۔پس یہ خیال کرنا کہ چونکہ شریعت کے میدان کی عام نیکی قضاء و قدر کے حادثات سے نہیں بچا سکتی اس لئے دعا اور صدقہ و خیرات بھی بے سود ہیں ایک بالکل غلط اور بے بنیاد خیال ہے جسے نہ تو عقل کا سہارا حاصل ہے اور نہ شریعت کا۔میں خیال کرتا ہوں کہ میرا یہ مختصر نوٹ تعلیم یافتہ اصحاب کے لئے کافی ہونا چاہئے۔( مطبوعه الفضل ۲۶ / اگست ۱۹۵۰ء)