مضامین بشیر (جلد 2) — Page 947
۹۴۷ مضامین بشیر ہوتا کہ خدا کو اس کا علم ہے بلکہ خدا کو علم اس لئے ہوتا ہے کہ اس چیز کا انجام ایک خاص رنگ میں ظاہر ہونے والا ہوتا ہے اور جب یہ فرق ظاہر و عیاں ہے تو اس پر یہ سوال اٹھا نا کہ انجام کے بعد تو انسان کو بھی علم ہو جاتا ہے ایک بالکل لاتعلق سی بات ہے جس کا امر زیر بحث سے کوئی دور کا بھی رشتہ نہیں کیونکہ میں نے انجام سے پہلے کے علم کا ذکر کیا تھا نہ کہ انجام کے بعد والے علم کا۔بہتر ہوگا کہ عزیز جاوید میرے اصل مضمون کے اس حصہ کو ایک نظر دوبارہ دیکھ لیں تا کہ کوئی غلط فہمی نہ رہے۔تیسرا سوال جاوید صاحب کا یہ ہے کہ جب قانون قضاء وقد ر ا ور قانون شریعت دو علیحدہ علیحدہ قانون ہیں جو ایک دوسرے میں دخل انداز نہیں ہوتے کیونکہ وہ دو ایسی صوبائی حکومتوں کی طرح ہیں جنہیں گویا خدا کی مرکزی حکومت کے ماتحت پروونشل اٹانومی حاصل ہے تو پھر دنیا کے کاموں میں خدا سے دعا مانگنے اور دینی رنگ میں صدقہ و خیرات کرنے کا کیا فائدہ ہے کیونکہ جیسا کہ بیان کیا گیا ہے قضاء و قدر کے میدان میں ہونا تو بہر حال وہی ہے جو قانون قدرت کے ماتحت مقدر ہے اور شریعت کے قانون کی نیکی اس میں اثر انداز نہیں ہو سکتی وغیرہ وغیرہ۔عزیز جاوید سلمہ کا یہ سوال حقیقۂ دلچسپ سوال ہے اور مجھے اس سوال سے اتنی ہی خوشی ہوئی جتنا کہ اوپر کے سوال سے افسوس ہوا تھا کیونکہ گو یہ اعتراض غلط ہے مگر بہر حال جاوید سلمہ کا خیال ایک بار یک بات کی طرف گیا ہے اور میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے اپنے مضمون میں اس پہلو کو زیادہ واضح کرنا چاہئے تھا کیونکہ اس کے بغیر نو جوانوں کے دلوں میں ایک ایسا وسوسہ پیدا ہو سکتا ہے جو بعید نہیں کہ بعض خام خیال لوگوں کی دینداری کے جذبہ کے لئے بالآخر مہلک ثابت ہو لیکن اس کے ساتھ ہی میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ اگر جاوید سلمہ زیادہ غور کی نظر سے دیکھتے تو صوبائی اور مرکزی حکومت کی مثال میں ہی اس شبہ کا اصولی جواب موجود تھا۔بے شک میں نے قانون قضاء وقدر اور قانون شریعت کے متعلق صوبائی حکومتوں کی مثال دے کر لکھا تھا کہ یہ حکومتیں ایک دوسرے کے میدان میں دخل نہیں دیتیں ( گو ضمناً اس تعلق میں میں نے استثنائی قانون کی طرف بھی اشارہ کر دیا تھا ) مگر اس سے یہ نتیجہ کیسے نکلا کہ خدا کی مرکزی حکومت بھی صوبائی حکومتوں کے کام میں دخل نہیں دے سکتی بلکہ اگر غور کیا جائے تو مرکزی حکومت کا ذکر ہی اس بات کی طرف توجہ منتقل کرنے کے لئے کافی تھا کہ گو یہ صوبائی حکومتیں ایک دوسرے کے مقابل پر آزاد ہیں مگر بہر حال وہ مرکزی حکومت کے ماتحت ضرور ہیں۔پس جب انسان خدا سے دعا مانگتا ہے تو وہ گو یا دوسرے الفاظ میں خدا کی مرکزی حکومت سے اپیل کرتا ہے اور خدا کی مرکزی حکومت بہر حال ایک بالا حکومت۔۔۔۔ہے جسے صوبوں کی باہمی آزادی اور ان کے ایک دوسرے کے مقابل پر دخل نہ دے سکنے کے با وجود حسب ضرورت صوبوں کے کام میں دخل دینے کا حق حاصل ہے۔پس دعا بالکل اور چیز ہے اور