مضامین بشیر (جلد 2) — Page 940
مضامین بشیر ۹۴۰ عید الاضحی والے مضمون کا تمہ قربانی کا گوشت سکھا کر ذخیرہ بھی کیا جاسکتا ہے عید الاضحیٰ کی قربانی کے متعلق میرا مضمون دو قسطوں میں مکمل ہو کر شائع ہو چکا ہے۔اس مضمون میں میں نے ثابت کیا تھا کہ یہ خطرہ کہ عید کی قربانیوں سے ملک میں جانوروں کا قحط ہو جائے گا ایک بالکل موہوم اور خیالی خطرہ ہے کیونکہ اسلام نے قربانیوں کے تعلق میں بعض ایسی حکیمانہ شرطیں لگا دی ہیں کہ انہیں ملحوظ رکھتے ہوئے یہ خطرہ حقیقہ کبھی پیدا ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ (۱) قربانی صرف مستطیع لوگوں کے لئے مقرر کی گئی ہے نہ کہ سب کے لئے اور (۲) اگر ایک گھر میں ایک سے زیادہ مستطیع لوگ موجود ہوں تو اس صورت میں صرف ایک شخص کی طرف سے ہی قربانی کافی ہو جاتی ہے۔(۳) کم عمر جانوروں کی قربانی جائز نہیں رکھی گئی تاکہ نسل کی قلت کا خطرہ نہ پیدا ہواور (۴) دودھ دینے والے جانوروں کی قربانی بھی درست نہیں سمجھی گئی۔اور (۵) گائے یا بھینس یا اونٹ میں سات آدمیوں کی شرکت جائز قرار دی گئی ہے تا کہ خواہ نخواہ ضیاع کی صورت نہ پیدا ہو وغیرہ وغیرہ اس کے علاوہ میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ قربانی کے دنوں میں گوشت کی دوکانیں عموماً بند ہو جاتی ہیں اور تجارتی رنگ میں جانوروں کا ذبیح ہو نا رک جاتا ہے۔جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اگر ایک طرف قربانی کی وجہ سے زیادہ جانور ذبح ہوتے ہیں تو دوسری طرف عام تجارتی ذبح کا سلسلہ بند ہو جانے سے اس تعداد میں کمی بھی آجاتی ہے۔ان ساری باتوں کا مجموعی نتیجہ یقینا اس مزعومہ خطرہ کا مکمل انسداد کر دیتا ہے جو قربانی کی وجہ سے پیدا ہو سکتا ہے۔اس پر یہ بات مزید ہے کہ ترقی یافتہ حکومتوں کی طرح حکومت پاکستان کا بھی یہ فرض ہے کہ جانوروں کی افزائش نسل اور ان کی بیماریوں کی روک تھام کے لئے ضروری تدابیر اختیار کرے۔ان جملہ امور کے ہوتے ہوئے کون عقل مند یہ خیال کر سکتا ہے کہ عید الاضحیٰ کی قربانیاں ( جو سال میں صرف ایک دفعہ آتی ہے ) ملک میں جانوروں کی قلت کا موجب ہوسکتی ہیں؟ اس کے علاوہ ایک بات میرے سابقہ مضمون میں بیان ہونے سے رہ گئی تھی۔اور وہ بھی اسلام کی حکیمانہ تدبیروں میں سے ایک اعلیٰ قسم کی تدبیر ہے جس سے قربانی کی روح کو زندہ رکھتے ہوئے