مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 83 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 83

۸۳ مضامین بشیر مسلمانوں کا مطالبہ پاکستان اور اس کے مقابل پر تقسیم پنجاب کا سوال اس وقت ہندوستان کے موجودہ سیاسی مسائل کے تعلق میں پنجاب کی تقسیم کا سوال خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔مسلمانوں کا یہ مطالبہ ہے کہ چونکہ پنجاب جغرافیائی اور اقتصادی لحاظ سے ایک طبعی اور قدرتی صوبہ کا رنگ رکھتا ہے اور ایک نا قابل تقسیم یونٹ (unit) ہے۔اس لئے اس کی تقسیم کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا اور کوئی وجہ نہیں کہ اس کا کوئی حصہ مجوزہ پاکستان سے علیحدہ کیا جائے۔اس کے مقابل پر ہندوؤں اور سکھوں کا مطالبہ یہ ہے کہ جب ہندوستان تقسیم ہو رہا ہے تو کیوں پنجاب کے ان حصوں کو تقسیم نہ کیا جائے جن میں ہندو سکھ اکثریت پائی جاتی ہے۔بظاہر ایک ناواقف شخص ہندوؤں اور سکھوں کے اس مطالبہ کو معقول سمجھ سکتا ہے اور خیال کر سکتا ہے کہ جب پاکستان کی تقسیم کا سوال زیادہ تر اس بناء پر اٹھایا گیا ہے کہ مسلم اکثریت والے صوبوں کو ہندو اکثریت والے صوبوں سے علیحدہ کر دیا جائے۔تو پھر اسی قسم کے حالات اور اسی قسم کے دلائل کے ماتحت پنجاب کے اس حصہ کو جن میں ہندو سکھ اکثریت ہے، کیوں مسلم اکثریت والے حصہ سے علیحدہ نہ کیا جائے۔مگر یہ مطالبہ خواہ بعض لوگوں کو معقول نظر آئے حقیقتاً ایک سراسر غیر منصفانہ بلکہ ظالمانہ مطالبہ ہے۔جس کی بنیاد ہندو قوم کی خود غرضانہ پالیسی اور فرقہ وارانہ ذہنیت پر قائم ہے۔اور بدقسمتی سے آج کل سکھوں کی سادہ لوح قوم بھی اس پالیسی کا شکار ہورہی ہے۔ہمارے اس دعوی کے موٹے موٹے دلائل مختصر طور پر یہ ہیں :- اوّل۔پاکستان کا بنیادی مطالبہ جیسا کہ آل انڈیا مسلم لیگ کے لاہور والے ریزولیوشن سے ظاہر ہے مسلم اکثریت والے صوبوں کی موجودہ حدود پر مبنی تھا اور اس تعلق میں مسلم لیگ کی قرارداد پر کے مطابق صرف ایسی خفیف تبدیلی کی گنجائش رکھی گئی تھی۔جو کسی جغرافیائی اصول تقسیم کے لحاظ سے چند مربع میلوں کے آگے پیچھے کرنے کی صورت میں ضروری سمجھی جائے۔مثلاً کسی دریا یا پہاڑ کی وجہ سے کسی حصہ میں چند میل آگے حد بڑھانی پڑے یا کسی حصہ میں پیچھے ہٹانی پڑے۔تا اگر بالفرض کسی جگہ جغرافیائی تقسیم کے لحاظ سے کوئی حد قابل اصلاح ہو تو اس کی اصلاح کی جاسکے۔لیکن ہندوؤں نے اس