مضامین بشیر (جلد 2) — Page 927
۹۲۷ مضامین بشیر عید اضحی کے موقعہ پر حسب توفیق قربانی کرنا ہمارے رسول (فداہ نفسی ) کی ایک مبارک سنت ہے۔جس کے متعلق ہمارے آقا نے تاکید فرمائی اور اسے بھاری ثواب کا موجب قرار دیا ہے۔اس موقعہ پر بعض لوگ یہ سوال اٹھایا کرتے ہیں کہ بیشک حدیثوں میں عید اضحی کی قربانی کا ثبوت ملتا ہے۔لیکن چونکہ قرآن شریف میں اس کا کوئی ذکر نہیں اس لئے ایک زائد قسم کی بات سمجھی جائے گی۔جسے زمانہ کے حالات کے ماتحت ترک کیا جا سکتا ہے۔مگر یہ نظر یہ بالکل باطلی اور اباحت اور زندیقی رجحانات سے مامور ہے۔کیا قرآن شریف نے یہ نہیں فرمایا کہ : لَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أَسْوَةٌ حَسَنَةٌ یعنی اے مسلمانو! تمہارے لئے رسول خدا کی سنت میں ایک بہترین نمونہ ہے۔جسے تمہیں اپنی زندگیوں کے لئے مشعل راہ بنانا چاہئے۔“ 66 اور دوسری جگہ فرماتا ہے اور بار بار کثرت کے ساتھ فرماتا ہے کہ:- أطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ - د یعنی اے مسلمانو خدا کی اطاعت کرو اور اس کے ساتھ ساتھ رسول کی اطاعت بھی کرو۔اب اگر خدا کی اطاعت ( یعنی دوسرے الفاظ میں قرآنی وحی پر ہی ) سارے اسلامی احکام کا خاتمہ ہو گیا تھا تو پھر قرآن شریف کو ان الفاظ کے زیادہ کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ أطِيعُوا الرَّسُولَ ( یعنی رسول کی بھی اطاعت کرو ) حق یہی ہے کہ چونکہ قرآنی وحی میں اختصار کی غرض سے کئی جگہ اجمال کا رنگ ہے اور ہر شخص اجمالی احکام کو سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔اسی لئے خدا تعالیٰ نے کمال حکمت سے رسول کی اطاعت کو بھی شریعت کا حصہ قرار دیا ہے تا کہ شریعت میں کوئی پہلو عدم تکمیل کا باقی نہر ہے اور نہ کوئی شخص جھوٹے عذر بنا کر شریعت کے حکموں کو ٹال سکے۔پس اگر ایک بات قطعی شہادت کے ذریعہ اور حدیث سے ثابت ہو جائے تو وہ ہمیں بہر حال قبول کرنی ہوگی اور میں اس شخص کی جرات کو یقیناً بے دینی کا مظاہرہ خیال کرتا ہوں جو محمد صلعم جیسے رسول کی اُمت میں ہو کر پھر یہ کہتا ہے کہ میں محمد کی بات نہیں مانتا۔وہ اپنی بیوی اور اپنے بچوں اور اپنے دوستوں کی تو روزانہ سینکڑوں باتیں مانتا ہے مگر جب افضل الرسل محمد رسول اللہ صلم کی بات بیان کی جائے تو کہتا ہے یہ نہیں بلکہ کوئی قرآنی آیت پیش کرو۔هَيْهَاتَ هَيْهَاتَ لِمَا تُوعَدُونَ ۷۲ لیکن حق یہ ہے کہ قرآن شریف بھی اس مسئلہ میں خاموش نہیں بلکہ اس نے بھی اپنے طریق کے