مضامین بشیر (جلد 2) — Page 923
۹۲۳ مضامین بشیر (۵) یہ بات بھی یا درکھنے کے قابل ہے ( گوشا ئد ا کثر لوگ اسے نہیں جانتے ) کہ عید اضحی کی نما زصرف غیر حاجیوں کے لئے مقرر ہے اور حاجیوں کے لئے مقرر نہیں اور نہ یہ نماز حج میں ادا کی جاتی ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ حج خود اپنے اندر ایک بھاری عید ہے کیونکہ اس میں عید کے چاروں عناصر بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔یعنی (الف) عبادت (ب) مومنوں کا اجتماع (ج) خوشی اور (د) عود یعنی اس دن کا بار بار لوٹ کر آنا۔اس لئے شریعت نے عید اضحی کی نما ز صرف غیر حاجی مقیم لوگوں کے واسطے رکھی ہے تا کہ جہاں ایک طرف حج کے ایام میں حاجی لوگ حج کی عید منا رہے ہوں وہاں غیر حاجی جنہیں کسی مجبوری کی وجہ سے حج کی توفیق نہیں مل سکی وہ اکناف عالم میں اپنی اپنی جگہ پر عید کر کے اس عظیم الشان قربانی کی یاد کو تازہ رکھیں جس کا حضرت اسمعیل کے وجود میں آغاز ہوا اور پھر آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم کے وجود باجود میں وہ اپنے معراج کو پہنچی۔پس حدیث میں جہاں کہیں بھی عید اضحی کی نماز کے تعلق میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے صحابہ کی قربانی کا ذکر آتا ہے وہ لازماً غیر حاجیوں کی قربانی سمجھی جائے گی۔عید اضحی کی قربانی کے عقبی منظر میں اوپر کی پانچ باتیں اتنی نمایاں اور واضح ہیں اور ان کی تائید میں ایسے روشن اور قطعی ثبوت موجود ہیں کہ کوئی شخص : اسلامی تعلیم سے تھوڑی بہت واقفیت بھی رکھتا ہو وہ خواہ کسی فرقہ کا ہو ان کے انکار کی جرات نہیں کر سکتا اور اسی لئے میں نے ان باتوں کی تائید میں حوالے اور شواہد پیش کرنے کی ضرورت نہیں سمجھی لیکن اگر کوئی شخص انکار کرے تو ان پانچ باتوں میں سے ہر بات کے متعلق یقینی اور ناقابل تردید ثبوت پیش کئے جا سکتے ہیں۔اس کے بعد میں اصل سوال کو لیتا ہوں۔پہلا سوال یہ ہے کہ کیا عید اضحی کے موقعہ پر غیر حاجیوں کے لئے بھی قربانی واجب ہے؟ اور اگر واجب ہے تو اس کا ثبوت کیا ہے؟ اس کے جواب میں پہلی بات تو یہ یا درکھنی چاہئیے کہ اگر واجب یا ضروری کا سوال ہو۔تو غیر حاجی تو در کنار حاجیوں پر بھی قربانی ہر صورت میں واجب نہیں ہے بلکہ اس کے لئے شریعت نے بعض خاص شرطیں لگائی ہیں۔مثلاً خالی حج کرنے والے پر ( جو اصطلاحاً افراد کہلاتا ہے ) قربانی واجب نہیں بلکہ صرف اس صورت میں واجب ہے کہ وہ حج اور عمرہ کو ایک ہی وقت میں جمع کرنے والا ہو۔جسے اسلامی اصطلاح میں تمتع یا قران کہتے ہیں یا وہ ایسے حاجی پر واجب ہے جو حج کی نیت سے نکلے مگر پھر حج کی تکمیل سے پہلے کسی مجبوری کی بناء پر حج ادا کرنے سے محروم ہو جائے اور دوسری شرط یہ ہے کہ وہ مالی لحاظ سے قربانی کی طاقت رکھتا ہو ورنہ وہ قربانی کی بجائے روزہ کا کفارہ پیش کر سکتا ہے۔پس جب ہر حالت میں حاجیوں کے لئے بھی قربانی فرض نہیں تو یہ کس طرح دعوی کیا جا سکتا ہے کہ غیر حاجیوں کے لئے وہ فرض یا واجب ہے؟