مضامین بشیر (جلد 2) — Page 869
۸۶۹ مضامین بشیر ایک مجلس میں بیان فرمایا کہ اگر انسان تقوی اللہ کو مدنظر رکھے تو خواہ سوشادیاں کر لے۔اس میں کوئی حرج نہیں۔اس پر بعض جلد باز لوگوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت صاحب نے سو بیویوں کی اجازت دے دی ہے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک یہ بات پہنچی تو حضور نے فرمایا کہ ہم نے تو ہر گز سو بیویوں کی اجازت نہیں دی اور نہ ہم ایسی اجازت دے سکتے ہیں۔ہمارا مطلب صرف یہ تھا کہ اگر تقوی مد نظر ہو تو بے شک اگر کسی کی ایک بیوی مر جائے یا اسے طلاق ہو جائے تو وہ چوتھی بیوی کے بعد پانچویں بیوی کرلے اور پانچویں کے بعد چھٹی کر لے اور چھٹی کے بعد ساتویں وعلی ھذ القیاس اور اس طرح خواہ سو تک نوبت پہنچ جائے کوئی حرج نہیں۔بشر طیکہ تقویٰ مدنظر ہوا اور حق بھی یہی ہے کہ ایک جائز بات میں جس میں شریعت نے کوئی حد بندی نہیں لگائی خواہ مخواہ روک پیدا کرنا دانشمندی کا طریق نہیں اور بزرگوں کے متعلق تو بہر حال حسن ظن کے مقام پر قائم رہنا چاہئے۔اس تعلق میں یہ بات بھی یادرکھنی ضروری ہے کہ جیسا کہ میں نے اپنی کتاب سیرۃ خاتم النبین صلحم میں تفصیلاً لکھا ہے۔اسلام نے نکاح اور تعدد ازدواج کی سات غرضیں بیان فرمائی ہیں یعنی (۱) احصان یعنی جسمانی اور روحانی بیماریوں سے اپنے آپ کو محفوظ کرنا۔(۲) بقاء نسل (۳) رفاقتِ حیات اور تسکین قلب (۴) محبت و رحمت کے تعلقات کی توسیع (۵) انتظام یتامی (۶) انتظام بیوگان اور ( ۷ ) نسل کی ترقی جو بقاء نسل سے ایک جدا گانہ چیز ہے۔تو جب نکاح میں بہت سی غرضیں مدنظر رکھی گئی ہیں تو لازماً اسی نسبت سے طلاق میں بھی بہت سی جائز غرضیں سمجھی جاسکتی ہیں لیکن چونکہ یہ ایک ذاتی اور پرائیویٹ معاملہ ہے اس لئے ہمیں کسی فرد کے متعلق ان غرضوں کی تفصیلی بحث میں جانے کی ضرورت نہیں۔بالآخر اس بات کو بھی ہرگز نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ خواہ حضرت امام حسن کا ذاتی اور خاندانی مقام کتنا ہی بلند ہو۔بہر حال یہ ایک حقیقت ہے کہ وہ نبی یا مامور نہیں تھے۔اس لئے ان کے اعمال اسوہ حسنہ کے معیار کے مطابق پر کھے جانے ضروری نہیں۔یہ صرف انبیاء کا مقام ہے کہ ان کا ہر فعل اور ہر عمل اسوہ حسنہ کے رنگ میں قبول کیا جائے۔فا فهم و تدبر ( مطبوعه الفضل۱۰رجون ۱۹۵۰ء)