مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 865 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 865

مضامین بشیر کثرت مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہونا اور مکالمہ بھی ایسا جس میں دنیا کے لئے اہم خبریں ہوں بے معنی ہو گا جب تک کہ وہ ساتھ ہی رسول نہ ہو اور کسی شخص کا رسول ہونا یعنی خدا کی طرف سے خاص پیغام لے کر آنا بے معنی ہوگا جب تک کہ وہ ساتھ ہی نبی ( یعنی کثرت مکالمہ سے مشرف ) نہ ہولیکن دوسری طرف محدث کے لئے مبعوث ہونا ضروری نہیں بلکہ صرف عام مومنوں کی نسبت کلام الہی سے زیادہ مشرف ہونا ضروری ہے۔گو یہ بھی ضروری نہیں کہ ہر محدث لازماً غیر مبعوث ہو۔مثلاً قرآن شریف کی سورۃ حج والی آیت کی ایک قرآت یہ بھی آئی ہے کہ : ما ارسلنا من قبلك من رسول ولا نبى ولا محدث۔الخ یعنی ”ہم نے کبھی کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ ہی کبھی کوئی نبی اور محدث بھیجا ہے کہ شیطان نے اس کے رستہ میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش نہ کی ہو۔“ اس سے ظاہر ہے کہ بعض محدث مبعوث بھی ہوتے ہیں اور اسلام کے اکثر مجدد محدث تھے۔واللہ اعلم۔اب رہا یہ سوال کہ ان میں سے کون شریعت لاتا ہے اور کون شریعت نہیں لاتا۔سو محدث کے متعلق تو شریعت کے لانے کا سوال پیدا ہی نہیں ہوتا بلکہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے یہ بھی ضروری نہیں کہ وہ مبعوث ہو۔البتہ نبیوں اور رسولوں میں سے بعض شریعت لائے ہیں اور بعض صرف سابقہ شریعت کی خدمت اور تجدید کے لئے مبعوث کئے جاتے ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہے کہ حضرت موسیٰ کے بعد بنی اسرائیل میں بہت سے ایسے نبی آئے جنہیں کوئی نئی شریعت نہیں دی گئی بلکہ وہ صرف موسوی شریعت کی خدمت کے لئے مبعوث کئے گئے۔( سورۃ مائدہ رکوع ۷ ) حتی کہ حضرت عیسی علیہ السلام بھی کوئی نئی شریعت نہیں لائے۔چنانچہ وہ خود فرماتے ہیں کہ :- یہ نہ سمجھو کہ میں تو رات یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔66 ایک حدیث میں بھی اس مضمون کی طرف اشارہ ملتا ہے۔چنانچہ آنحضرت صلے اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں کہ کل نبی ایک لاکھ بیس ہزار گزرے ہیں جن میں سے ۳۱۵ رسول تھے۔اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں کہ : عن ابی ذر قلت یا رسول الله کم وفى عدة الانبياء قال مائة الف و عشرون الـفـا الــرسـل مـن ذالك ثلاث مائة و خمسة عشرة جماً غفيرًا ۳۴