مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 864 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 864

مضامین بشیر ۸۶۴ یہ بات بھی یا درکھنی ضروری ہے کہ رسول کا لفظ انسان رسولوں کے علاوہ ان فرشتوں پر بھی بولا جاتا ہے جو کسی بندے کے نام خدا کی طرف سے کوئی پیغام لے کر آتے ہیں اور قرآن شریف میں بھی رسول کا لفظ ان معنوں میں استعمال ہوا ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ : مَا أَرْ سَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُولٍ وَلَا نَبِيِّ إِلَّا إِذَا تَمَنَّى أَلْقَى الشَّيْطَنُ في أمنيته ۳۲ یعنی ”ہم نے تجھ سے پہلے کبھی کوئی رسول نہیں بھیجا اور نہ ہی کبھی کوئی نبی بھیجا ہے کہ اس نے جب بھی اپنے مشن کی کامیابی کے لئے کوئی ( سکیم بنا کر ) آرزوئیں قائم کیں تو شیطان نے لازماً اس کی ان آرزوؤں میں رخنہ پیدا کرنے کی کوشش کر دی۔“ اس جگہ رسول کے لفظ میں انسان رسول اور ملائکہ رسول دونوں شامل ہیں۔اسی لئے رسول اور نبی کے درمیان و لا ( اور نہ ہی ) کے الفاظ رکھ کر تفریق کی گئی ہے۔ورنہ عام حالات میں اس کی ضرورت نہیں تھی۔تیسری اصطلاح محدث کی ہے۔یہ لفظ حدیث سے نکلا ہے جس کے معنی بات یا کلام کے ہیں۔اور اصطلاحی طور پر محدث اس شخص کو کہتے ہیں جو خدا کے کلام سے مشرف ہولیکن یہ کلام اپنی کیفیت اور کمیت میں اس درجہ کا نہ ہو کہ اس کی وجہ سے اس الہام کا پانے والا نبی کہلا سکے مگر دوسری طرف یہ بھی ضروری ہے کہ یہ کلام کبھی کبھا ر الہام پانے والوں کی نسبت زیادہ کثرت کا رنگ رکھتا ہو۔اوپر کی مختصر تعریفوں سے ظاہر ہے کہ نبی اور رسول میں تو درجہ کا فرق نہیں ہوتا بلکہ صرف جہت کا فرق ہوتا ہے لیکن نبی اور محدث میں جہت کا فرق نہیں ہوتا بلکہ صرف درجہ کا فرق ہوتا ہے۔ایک شخص نبی تو اس لحاظ سے کہلا تا ہے کہ وہ کثرت مکالمہ و مخاطبہ سے مشرف ہوتا ہے اور رسول اس لحاظ سے کہلا تا ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بندوں کے نام کوئی خاص پیغام لے کر آتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ فرق جہت کا فرق ہے درجہ کا فرق نہیں لیکن دوسری طرف نبی اور محدث گو ایک ہی لائن اور ایک ہی جہت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن ان میں درجہ کا فرق ہوتا ہے یعنی جہاں ایک نبی کثرت کے ساتھ الہام پاتا اور کثرت کے ساتھ امور غیبیہ سے مشرف ہوتا ہے۔وہاں ایک محدث کو اس درجہ کی کثرت حاصل نہیں ہوتی۔گو وہ عام مومنوں کی نسبت جو کبھی کبھی کلام الہی سے مشرف ہو جاتے ہیں ضرور بڑا درجہ رکھتا ہے۔اوپر کی تشریح سے یہ بھی ظاہر ہے کہ ہر نبی رسول ہوتا ہے اور ہر رسول نبی ہوتا ہے۔( اور یہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک غلطی کے ازالہ میں فرمایا ہے ) کیونکہ کسی شخص کا نبی ہونا یعنی