مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 862 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 862

مضامین بشیر ۸۶۲ اس کے علاوہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات پر جو رسالہ زیر عنوان ” صادقوں کی روشنی کو کون دور کر سکتا ہے۔۱۹۰۸ء میں حضرت خلیفتہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے لکھ کر شائع کیا تھا اس میں بھی داغ ہجرت والا الہام درج ہے اور یہ بھی اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ یہ الہام اب نہیں بنا لیا گیا بلکہ ۱۹۰۸ء میں بھی یہ الہام جماعت احمدیہ میں اچھی طرح شائع اور متعارف تھا۔اسی دوست نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک دوسرے الہام کا بھی ذکر کیا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ : غُلِبَتِ الرُّومُ فِى أدْنَى الْأَرْضِ وَهُمْ مِّنْ بَعْدِ غَلَبِهِمْ سَيَغْلِبُونَ و یعنی رومیوں کو قریب کی زمین میں مغلوب ہونا پڑے گا مگر وہ جلدی ہی پھر غالب 66 ہو جائیں گے۔“ اس کے متعلق یہ دوست لکھتے ہیں کہ پیر سراج الحق صاحب نعمانی نے اپنی کتاب تذکرۃ المہدی شائع شدہ دسمبر ۱۹۲۱ء کے صفحہ ۴۴ صفحہ ۴۵ پر اس الہام کے متعلق لکھا ہے کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ الہام ہوا تو اس کے ساتھ ہی حضور کو یہ مکاشفہ بھی ہوا تھا کہ کوئی شخص قرآن شریف میں ادنی الارض ( قریب کی زمین) کے الفاظ پر انگلی رکھ کر کہتا ہے کہ اس سے مراد قادیان ہے۔( تذکرہ المہدی حصہ دوم شائع محمد ہ ۱۹۲۱ء ) اس تعلق میں خاکسار عرض کرتا ہے کہ اس حوالہ سے واضح طور پر پتہ لگتا ہے غلبت الروم والا الہام بھی جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو۱۹۰۴ میں ہوا تھا۔( تذکره ص ۴۶۹ ) در اصل قادیان سے ہجرت کرنے کے متعلق ہی تھا اور جب ادنی الارض ( یعنی قریب کی زمین ) کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خدا کی طرف سے بتایا گیا کہ اس سے مراد قادیان ہے تو پھر لا محالہ استعارہ کی زبان میں روم سے مراد مسلمان لئے جائیں گے اور اشارہ یہ سمجھا جائے گا کہ آئندہ آنے والی کش مکش میں اولاً مسلمانوں کو قادیان اور اس کے اردگرد کے علاقہ (ضلع گورداسپور ) کے متعلق مغلوب ہونا پڑے گا جیسا کہ ملکی تقسیم کے وقت فیصلہ ثالثی میں ہوا لیکن اس کے بعد زیادہ دیر نہیں ہوگی کہ خدا تعالی حالات کو بدل کر پھر غلبہ کی صورت پیدا کر دے گا اور لطف یہ ہے کہ ادنیٰ الارض کے الفاظ ویسے بھی گو یا الفاظ (Contiguous Area) کا لفظی ترجمہ ہیں جو فیصلہ ثالثی کی شرائط میں داخل تھے۔فا فهم تدبر و انتظر۔( مطبوعه الفضل ۶ رمئی ۱۹۵۰ء)