مضامین بشیر (جلد 2) — Page 853
۸۵۳ مضامین بشیر خاندان نبوت ایک نہایت ضروری اور بروقت انتباه الفضل مؤرخہ ۲۰ مئی ۱۹۵۰ء کے صفحہ ۳ پر حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ بصرہ العزیز کا ایک اہم اعلان زیر عنوان ” خاندان حضرت مسیح موعود کے متعلق ایک ضروری اعلان۔شائع ہوا ہے اس اعلان میں حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے جماعت کو یہ ہدایت فرمائی ہے کہ وہ اپنی تقریروں اور تحریروں میں خاندان نبوت“ کے الفاظ استعمال نہ کیا کریں کیونکہ ان الفاظ کے استعمال سے یہ دھو کہ لگتا ہے کہ شاید یہی ایک خاندان نبوت ہے حالانکہ اصل نبوت تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت صرف ظلی نبوت ہے نہ کہ مستقل اور بلا واسطہ ) پس اصل خاندان نبوت صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان ہے اور وہی اس بات کا حق رکھتا ہے کہ اسے ان الفاظ سے یا دکیا جائے وغیرہ وغیرہ۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ کا یہ اعلان ایک نہایت اہم اور با موقعہ اعلان ہے جس کی اس وقت جماعت کو حقیقی ضرورت تھی اور حق یہ ہے کہ میں خود کچھ عرصہ سے اس کے متعلق الفضل میں لکھنا چاہتا تھا لیکن اس خیال سے کہ اس قسم کے معاملہ میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کے ہوتے ہوئے کسی اور کا لکھنا مناسب نہیں۔میں دانستہ خاموش رہا اور خدا تعالیٰ نے میری اس خواہش کو حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ کے اعلان کے ذریعہ پورا فرمایا۔فالحمد لله علی ذالک۔جو دلیل حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ نے اس اعلان کی تائید میں بیان فرمائی ہے وہ اصولاً نہایت مناسب اور پختہ ہے اور ضروری ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) کے خدا دا د امتیاز کو ہر جہت سے قائم رکھا جائے لیکن اس کے علاوہ میرے ذہن میں یہ دلیل بھی تھی کہ ایک اور لحاظ سے بھی’ خاندان نبوت“ کی اصطلاح نا مناسب اور نا درست ہے کیونکہ قرآنی تعلیم کے ماتحت نبوت کا انعام در حقیقت افراد کے ساتھ تعلق رکھتا ہے نہ کہ خاندانوں اور قبیلوں اور قوموں کے ساتھ۔پس ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ فلاں نبی کا خاندان یا فلاں رسول کا خاندان یا فلاں مامور کا خاندان لیکن ہم کسی خاندان کو خاندانِ نبوت یا خاندان رسالت وغیرہ کا نام نہیں دے سکتے۔چنانچہ اس بارہ میں قرآن