مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 829 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 829

۸۲۹ مضامین بشیر ( هفتم ) حکومت کا یہ بھی فرض ہے اور یہ ایک نہایت ضروری فرض ہے کہ وہ کم تنخواہ والے لوگوں اور مزدوروں کی اجرت میں مناسب اضافہ کرے۔انہیں ایک باوقار اور شریفانہ زندگی گزارنے کے قابل بنائے۔موجودہ حالات میں یقیناً تنخواہوں کا تفاوت بہت معیوب صورت اختیار کئے ہوئے ہے۔اسلامی فوجوں میں ( جو ابتدائی زمانہ میں سب سے بڑی پبلک سروس تھی ) سپاہیوں اور افسروں کے درمیان اس حد تک کا نا گوار فرق ہر گز نہیں ہوتا تھا۔یہ سب طریقے ایک طرف امیروں کی دولت کو کنٹرول کرنے اور دوسری طرف غریبوں کی پونجی اور ان کے قلبی اطمینان کو بڑھانے کے لئے مقرر کئے گئے ہیں اور یقیناً اگر ہماری حکومت ان طریقوں پر پوری پوری توجہ دے اور دوسری طرف امیر لوگ موجودہ تمدنی اور جذباتی خلیج کو جو تباہ کن حد تک پہنچی ہوئی ہے کم کر کے اسلامی اخوت کی روح کا اظہار کریں یعنی غریبوں سے بھائیوں کی طرح ملیں انہیں اپنی دعوتوں میں بلائیں اور ان کی غریبانہ دعوتوں کو قبول کرنے میں ہتک محسوس نہ کریں ( یہ حدیث کے الفاظ ہیں ) ان کی ضرورتوں کا خیال رکھیں ان کے سامنے فرعونی انداز اختیار نہ کریں بلکہ رسول کریم کا نمونہ پیش کریں جو ایک بوڑھی عورت کو اپنے سامنے ڈر سے کانپتے ہوئے دیکھ کر اس کی طرف یہ محبت کے الفاظ کہتے ہوئے لپکتے تھے کہ مائی ڈرو نہیں ، ڈرو نہیں، میں کوئی بادشاہ نہیں ہوں بلکہ میں بھی تمہاری طرح کا انسان ہوں۔تو روح اگر یہ ہو اور نظام اسلام کا ہو تو جائدادوں کے انفرادی حق کو باطل کرنے اور کسی فرد کی ذاتی جائداد کو جبر ا چھیننے کے بغیر سوسائٹی میں امن اور خوشحالی کا دور دورہ قائم ہو سکتا ہے اور اس بات کی ہرگز ضرورت پیدا نہیں ہوتی کہ ہم اسلام کے مقدس دامن کو اشتراکیت کے ناپاک ہاتھوں کے سامنے پھیلا کر اس نظام کو اختیار کریں جو سرمایہ داری کی لعنت کی طرح دوسری انتہاء کی تباہی کا علم بردار ہے۔بس اس کے بعد میں فاروقی صاحب کے جواب میں کوئی اور بات عرض نہیں کروں گا۔وما علینا الا البلاغ۔( مطبوعه الفضل ۱۳ را بریل ۱۹۵۰ء)