مضامین بشیر (جلد 2) — Page 828
مضامین بشیر ۸۲۸ علیہ وسلم کے متعلق حدیث میں آتا ہے۔کہ آپ کا دستِ مبارک غریبوں کی امداد میں اس طرح چلتا تھا کہ گویا وہ ایک تیز آندھی ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔( سوم ) اسلام نے سود کی ممانعت کر کے بھی دولت کو مناسب طور پر سمونے کا انتظام فرمایا ہے کیونکہ سود وہ لعنت ہے۔جس کے ذریعہ لوگ بڑے بڑے انفرادی سرمائے پیدا کر کے چھوٹی تجارتوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور یا پھر سرمایہ دار لوگ گھروں میں بیٹھے بیٹھے عوام الناس کا خون چوستے رہتے ہیں۔اسلام نے سود کو حرام قرار دے کر امیروں کو مجبور کیا ہے کہ وہ اپنے مالوں کو کھلے بازار میں لا کر صنعت و تجارت میں لگائیں اور اگر کسی بھائی کو قرض دیں تو یا تو قرض حسنہ کے طور پر دیں یا واجبی کفالت کی صورت میں رہن کا طریق اختیار کریں اور یا پھر کھلی تجارت میں کسی کے ساتھ شرکت کی صورت کو قبول کریں۔اسی طرح اسلام میں جو اُ بھی منع قرار دیا گیا ہے کیونکہ وہ بھی دولت کی نا واجب تقسیم کا ایک نا پاک ذریعہ ہے۔(چہارم ) اسلام نے حکومت کا یہ فرض بھی قرار دیا ہے کہ جو لوگ کسی حقیقی معذوری یا بیماری یا زیادتی عمر کی وجہ سے کمانے کے قابل نہیں ان کی واجبی ضرورتوں کا انتظام حکومت کرے اور اگر اس غرض کے لئے اس کے عام محاصل کافی نہ ہوں تو وہ اس کے لئے امیروں کی آمدن پر مزید ٹیکس بھی لگا سکتی ہے۔( پنجم ) حکومت کے لئے یہ رستہ بھی کھلا ہے کہ وہ افتادہ سرکاری زمینوں کو ( جن کی کمی نہیں ) مناسب طور پر غریب اور محنتی کا شتکاروں میں تقسیم کر کے ان کی خوشحالی کا دروازہ کھولے اور یقیناً جو حکومت مستحق غریبوں کو چھوڑ کر سرکاری زمینیں امیروں میں تقسیم کر دیتی ہے وہ ایک غیر اسلامی طریق کی مرتکب ہوتی ہے۔(ششم) حکومت کو میرے خیال میں خاص حالات کے ماتحت یہ حق بھی حاصل ہے کہ اگر ضروری خیال کرے تو کاشتکاری کے لئے زمینداروں کی زمین کی آمد میں موجودہ حصہ سے زیادہ شرح مقرر کر دے۔اس وقت موجودہ کا شتکار کسی جگہ تہائی اور کسی جگہ نصف حصہ لیتا ہے اور بعض خاص قسم کی فصلوں میں 315 حصہ بھی لیتا ہے۔مگر حدیث سے پتہ لگتا ہے کہ اس شرح میں باہم رضامندی سے کمی بیشی ہو سکتی ہے اور کوئی وجہ نہیں کہ خاص حالات میں حکومت کو بھی اس معاملہ میں دخل دینے کا حق حاصل نہ ہو اور بہر حال وقتی حالات کے ماتحت کا شتکاروں کے حق میں شرح کی اقل حد مقرر کرنے پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔اسی طرح حکومت اس قسم کا قانون بھی بنا سکتی ہے جس میں کا شتکاروں کو اپنی تیار کی ہوئی زمینوں میں معقول عرصہ تک بے روک ٹوک بیٹھے رہنے کی تسلی حاصل ہو جائے۔