مضامین بشیر (جلد 2) — Page 826
مضامین بشیر ۸۲۶ سے توقع کی جاتی ہے کہ اگر اس کے لئے ممکن ہو تو وہ اپنی خوشی سے اپنا زائد حصہ دے دے ورنہ حکومت مناسب قیمت ادا کر کے جبر آلے سکتی ہے۔اس طرح اگر کوئی فوجی یا قومی پارٹی سفر پر ہو اور رستہ میں اس کا زادِ راہ ختم ہو جائے تو اسے بھی اپنی اقل ضرورت کے مطابق اہل علاقہ سے اپنی خوراک حاصل کرنے کا حق ہے خواہ اس کے لئے جبر کرنا پڑے مگر مناسب قیمت بہر حال ادا کرنی ہو گی ،سوائے اس کے کہ اہل علاقہ اپنی خوشی سے بلا قیمت دے دیں۔(۴) اگر کسی افسر نے کوئی اراضی وغیرہ کسی شخص کو نا جائز طور پر دے دی ہو تو اس کے بالا افسر کو یا اگر وہ خود بالا افسر ہے تو اس کے بعد اس کے جانشین کو اسی شخص سے یہ اراضی وغیرہ واپس لے لینے کا اختیار ہے جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہے کہ حضرت عمر بن عبد العزیز رضی اللہ عنہ نے اپنے سے پہلے کے اموی خلفاء کے ناجائز عطیات کو واپس لے لیا تھا۔(۵) حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنی تصنیف میں جاگیر داریوں کو بھی ناجائز قرار دیا ہے اور ان کی واپسی کو جائز۔بلکہ ضروری جاگیرداری سے مراد یہ ہے کہ حکومت کسی قطعہ اراضی کے متعلق وہ سرکاری معاملہ یا ٹیکس جو حکومت کا حق ہے ، مالک زمین کو دے دے یا کسی اور شخص کی طرف منتقل کر دے۔ہمارے ملک میں اس کی مثالیں کثرت سے پائی جاتی ہیں اور جاگیرداری زمینداری سے ایک جدا گانہ چیز ہے۔یہ سب صورتیں جو اوپر کے پانچ فقرات میں بیان کی گئی ہیں جائز اور واجبی ہیں مگر ان مسنون اور جائز رستوں کو چھوڑ کر یونہی کسی شخص کی ذاتی جائیداد اس سے چھین لینا کسی طرح جائز نہیں اور یقیناً اسلام افراد کے خلاف حکومت کے ظلم کے ہاتھ کو بھی اسی طرح روکتا ہے جس طرح کہ ایک فرد کے خلاف دوسرے فرد کے ظلم کو روکتا ہے۔اب سوال یہ رہ جاتا ہے کہ دولت کو مناسب رنگ میں سمونے کے لئے اسلام کیا انتظام پیش فرماتا ہے۔سوگو یہ میرے اس محدود مضمون کا حصہ نہیں مگر مختصر طور پر بعض باتیں عرض کئے دیتا ہوں کہ : ( اول ) اسلام نے ورثہ کا ایک نہایت حکیمانہ اور تفصیلی قانون جاری فرمایا ہے جس کی رو سے ہر مرنے والے کا ترکہ اس کے تمام قریبی رشتہ داروں میں ( مردوزن ( لڑکے لڑکیاں ) ماں باپ اور بعض صورتوں میں بھائیوں ، بہنوں اور دیگر قریبی رشتہ داروں میں ) مناسب طریق پر تقسیم ہو جاتا ہے اور اگر اس قانون ورثہ پر پوری طرح عمل کیا جائے تو ملکی دولت لا زما ساتھ ساتھ تقسیم ہوتی چلی جاتی ہے اور بڑی بڑی جائیدادوں کا وجود قائم نہیں رہ سکتا لیکن افسوس ہے کہ اور تو اور خود مسلمانوں نے اس قانون کی زد سے بچنے کے لئے کئی قسم کے حیلے بنا رکھے ہیں۔بے شک اب ورثہ کے متعلق نیا