مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 825 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 825

۸۲۵ مضامین بشیر صرف اصول کی حد تک پس جبکہ میرے اس مضمون کا موضوع اسلام کے اقتصادی نظام کی تشریح پیش کرنا تھا ہی نہیں تو پھر فاروقی صاحب کا یہ دعویٰ کہاں تک درست سمجھا جا سکتا ہے کہ میں نے اقتصادی حالات کی اصلاح کو محض ٹیکسوں کے اندر محصور کر دیا ہے میرا عقیدہ تو خلاصہ یہ ہے کہ بعض باتوں جنہیں نقص قرار دیا جاتا ہے۔وہ دراصل نقص ہی نہیں اور صرف ماحول کے تاثرات نے انہیں نقص کی صورت میں پیش کر رکھا ہے اور بعض باتیں واقعی قابل اصلاح ہیں مگر یہ باتیں اسلام کی تعلیم سے تعلق نہیں رکھتیں بلکہ مسلمانوں کے موجودہ عمل سے تعلق رکھتی ہیں اور پھر یہ باتیں کسی ایک میدان کے اندر محصور نہیں بلکہ بہت سے میدانوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔اور ان میدانوں کا مرکزی نقطہ بہر حال موجودہ مسلمانوں کے دل اور مسلمانوں کے جوارح ہیں۔فافهم و تدبر۔بالآخر فاروقی صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ اس وفا میں ایک طرف عام بے چینی اور عام غربت کی حالت پائی جاتی ہے اور دوسری طرف ایک طبقہ بے پناہ دولت کا مالک بنا بیٹھا ہے تو کیا ایسے حالات میں بھی حکومت امیروں کی دولت پر ہاتھ ڈال کر اسے غریبوں کی فلاح و بہبود میں استعمال نہیں کر سکتی ؟ اس کے جواب میں یاد رکھنا چاہئے کہ بے شک حکومت ایک طرف جمہور کی ( جس کی طرف سے اسے حکومت کا حق پہنچتا ہے ) اور دوسرے طرف ایک رنگ میں خدا کی ( جو دنیا کا اصل مالک و آقا ہے ) نمائندہ ہے اور اسے ملک وقوم کے عام حالات اور خاص حالات دونوں میں متعدد اختیارات حاصل ہیں مگر یہ اختیارات بہر حال غیر محدود نہیں بلکہ بعض بنیادی شرائط کے ساتھ مشروط ہیں مثلاً (۱) ایک ایسی حکومت جو اپنی مسلمان رعایا میں اسلامی ضابطہ نظام کو قائم کرنے کی مدعی ہو کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا سکتی جو اسلام کی کسی ثابت شدہ اصولی تعلیم کے خلاف ہو اور انفرادی حق ملکیت کا اصول یقیناً اسلام میں ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔پس سوائے ایسی استثنائی صورتوں کے جب کسی رفاہ عام کے کام کے لئے کسی انفرادی حق کو لینے کی حقیقی ضرورت پیش آ جائے۔( مثلاً کسی پبلک رستہ یا ہسپتال یا سرائے یا چوک وغیرہ کی تعمیر ) وہ کسی فرد سے اس کی جائز حقیقت کو اسکی مرضی کے بغیر نہیں لے سکتی۔(۲) اگر اوپر کی قسم کے استثنائی حالات میں بھی حکومت کسی شخص کی ذاتی جائیداد اس سے لے گی تو اسے اس کا مناسب معاوضہ دینا ہوگا۔(۳) قحط کی صورت میں جبکہ ایک طبقہ خوراک کی کمی کی وجہ سے فاقہ کی حد تک پہنچ رہا ہو اور دوسرے کے پاس اس کی اقل کی ضرورت سے زیادہ خوراک موجود ہو تو حکومت مؤخر الذکر طبقہ کے ذخائر سے ضروری حصہ لے کر مقدم الذکر طبقہ میں تقسیم کر سکتی ہے۔ان حالات میں مؤخر الذکر طبقہ