مضامین بشیر (جلد 2) — Page 816
مضامین بشیر ۸۱۶ کوئی نہیں ) ایک ایسی جرح ہے جو کم از کم میری سمجھ سے بالا ہے۔میں نے پہلے بھی عرض کیا تھا اب پھر عرض کرتا ہوں کہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی یہ کتاب اشتراکیت کے موضوع پر نہیں ہے اور نہ ہی یہ کتاب سرمایہ داری کے موضوع پر ہے بلکہ صرف ایک مخصوص سوال کے متعلق ہے جو زمین کے حق ملکیت سے تعلق رکھتا ہے جس کا تجزیہ میں نے اپنے پہلے مضمون میں تین معین سوالوں کی صورت میں پیش کیا تھا اور ایک سوال کا اب اضافہ کر رہا ہوں کیونکہ وہ بھی اس کتاب کے موضوع کا حصہ ہے۔بہر حال اگر فاروقی صاحب کے خیال میں یہ کتاب ان چار سوالوں کے جواب سے قاصر رہی ہے تو صاف صاف بتا دیں کہ ان میں سے فلاں سوال کا جواب نہیں آیا یا یہ کہ فلاں حصہ کا جواب غلط ہے بس پھر خود بخود فیصلہ ہو جائے گا۔لیجئے میں ان سوالوں کو پھر دہرا دیتا ہوں جو اس کتاب کا اصل موضوع ہیں : (1) کیا اسلام زمین کی انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے؟ ( جواب مثبت میں ) (۲) اگر وہ انفرادی ملکیت کی اجازت دیتا ہے تو کیا وہ اس اجازت کے ساتھ اس قسم کی کوئی حد بندی لگاتا ہے کہ کسی ایک مالک کے پاس اس قدر رقبہ سے زیادہ زمین نہیں رہ سکتی ؟ ( جواب منفی میں ) (۳) کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ زمین کا مالک اپنی زمین کسی اور شخص کو کاشت پر دے اور اس سے اپنے حق ملکیت کے عوض میں بٹائی یا لگان وصول کرے؟ یعنی وہی جسے آج کل کی اصطلاح میں زمینداری یا لینڈ لارڈ ازم کہا جاتا ہے اور جس کا فاروقی صاحب نے بار بار ذکر فرمایا ہے۔( جواب مثبت میں ) (۴) کیا اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی شخص کی زمین جو اس کی جائز ملکیت ہے اس سے زبر دستی چھین کر کسی دوسرے شخص کو دے دی جائے ؟ ( جواب منفی میں ) یہ وہ چار سوال ہیں جو کتاب ” اسلام اور زمین کی ملکیت کا مخصوص موضوع ہیں۔اب فاروقی صاحب فرمائیں کہ ان چار سوالوں میں سے کس سوال کا جواب اس کتاب میں نہیں آیا ؟ اور اگر مطلب یہ ہے کہ ان چار سوالوں کے علاوہ بعض اور باتیں بھی شامل کیوں نہیں کی گئیں تو ( قطع نظر اس کے کہ اس کتاب میں کئی اور ضمنی باتیں بھی شامل ہیں ) اس کا جواب یہ ہے کہ یہ اس لئے ہے کہ وہ اس کتاب کے مخصوص موضوع سے باہر ہیں۔مگر میں نے ساتھ ہی عرض کر دیا تھا کہ ہمارے دوسرے لٹریچر میں ان زائد سوالوں کا جواب بھی کافی وشافی موجود ہے لیکن مشکل یہ ہے کہ ہمارے ناقد صاحب اس لٹریچر کو تقریر کہہ کر قابل التفات نہیں سمجھتے۔گویا دلیل صرف ”کتاب“ میں بیان کی جا سکتی ہے تقریر میں نہیں سما سکتی۔