مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 815 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 815

۸۱۵ مضامین بشیر کرنے سے امر زیر بحث پر کوئی اصولی روشنی پڑسکتی تھی۔علاوہ ازیں اگر کوئی تقریر بعد میں کتابی صورت میں شائع ہو جائے تو بہر حال وہ کتاب کہلاتی ہے اور دنیا بھر کا مسلمہ اصول اسے کتاب کے نام سے ہی یاد کرتا ہے۔لیکن اگر فاروقی صاحب دنیا کے اس مسلمہ اصول کو ماننے کے لئے تیار نہ ہوں تو میں یہ عرض کروں گا کہ کیا فاروقی صاحب قرآن کریم کو کتاب مانتے ہیں یا نہیں ؟ حالانکہ وہ گویا ان الہامی تقریروں کا مجموعہ ہے جو خدائے لم یزل کی طرف سے ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے القاء کی گئیں۔اگر تئیس سال کے عرصہ پر پھیلی ہوئی تقریروں کو خدا تعالیٰ قرآن شریف کے بالکل شروع میں ہی " ذلك الكتب “ کے الفاظ کہہ کر دنیا کے سامنے پیش فرماتا ہے تو میری اس بات پر کہ میں نے ایک تقریر کو جو بعد میں کتابی صورت میں چھپ گئی ، کتاب کے نام سے پیش کیا۔فاروقی صاحب چیں بچیں ہوتے ہوئے اچھے نہیں لگتے اور یوں تو کسی صاحب کو ناراضگی کے اظہار سے روکنا میرے بس کی بات نہیں۔اس کے بعد فاروقی صاحب میرے تبصرے کے اس حصہ کو لیتے ہیں جہاں میں نے لکھا تھا کہ حضرت امام جماعت احمدیہ نے اپنی کتاب ” اسلام اور زمین کی ملکیت میں صرف چند معین سوالوں کا جواب دیا ہے جو زمین کے حق ملکیت سے تعلق رکھتے ہیں یعنی آیا اسلام زمین کی ملکیت کے تعلق میں افراد کے حق کو تسلیم کرتا ہے یا نہیں اور اگر کرتا ہے تو کسی صورت میں ؟ کیونکہ یہی اس کتاب کا مخصوص موضوع تھا اور میں نے فاروقی صاحب کی جرح کا جواب دیتے ہوئے عرض کیا تھا کہ یہ کتاب کوئی انسائیکلو پیڈیا تو تھی نہیں کہ جس میں ہر موضوع کو داخل کر دیا جا تا۔میرے اس نوٹ کے جواب میں فاروقی صاحب فرماتے ہیں کہ :- اگر کوئی مصنف زمین داری جیسے اہم مسئلہ کو پیش کرنے کے لئے انسائیکلو پیڈیا سے کم کوئی کتاب نہیں لکھ سکتا تو اسے انسائیکلو پیڈیا ہی لکھنا چاہئے۔مجھے افسوس ہے کہ اس جرح میں بھی فاروقی صاحب نے میرے نوٹ کو سمجھنے کی کوشش نہیں فرمائی۔میری بات بالکل صاف اور سیدھی تھی۔میں نے یہ عرض کیا تھا کہ ہر کتاب کا ایک مخصوص موضوع ہوتا ہے اور ہرا چھے مصنف کا یہ فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے تخیل کو اپنے موضوع سے باہر نہ جانے دے اور چونکہ حضرت امام جماعت احمدیہ کی اس کتاب کا موضوع جیسا کہ اس کے نام سے ظاہر ہے زمین کے حق ملکیت سے تعلق رکھتا ہے۔اس لئے اس کتاب میں صرف اسی مخصوص مضمون کے متعلق ہی بحث کی گئی ہے۔اب اس پر یہ جرح کرنا کہ اس میں اشتراکیت اور سرمایہ داری کی بحثیں کیوں نہیں آئیں ( بے شک یہ فاروقی صاحب کے الفاظ نہیں مگر ان کی جرح کا مرکزی نقطہ بھی اس کے سوا اور