مضامین بشیر (جلد 2) — Page 796
مضامین بشیر آپ کے صحابہ ہجرت کر کے مدینہ میں پہنچے تو اس کے ساتھ ہی اسلام نہایت حیرت انگیز صورت میں ترقی کرنے لگ گیا۔گو یا وطنیت اسلام کے سامنے ایک بند کے طور پر کھڑی تھی جس کے ٹوٹنے پر اسلام کے زور دار دھارے نے سارے علاقہ کو دیکھتے ہی دیکھتے سیراب کر دیا۔یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا پہلا حصہ ہے جو مدینہ کی ہجرت سے تعلق رکھتا ہے۔اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ اسلام پر پھر ایک اور ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ جب وہ گویا دوبارہ بے وطن ہو جائے گا۔اور اس دوسری بے وطنی کے زمانہ میں اس کی ترقی کا دوسرا دور شروع ہو گا۔سو یہ دوسری بے وطنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔جبکہ گویا اسلام کا درخت اپنے اصل وطن سے بے وطن ہو کر ہمارے اس بر عظیم میں سے اٹھنا اور بڑھنا شروع ہوا ہے۔پس دراصل یہ حدیث اسلام کے دو عظیم الشان دوروں کی طرف اشارہ کرتی ہے یعنی ایک تو اس میں مدینہ کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے۔اور دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کی طرف اشارہ ہے کیونکہ دونوں میں اسلام کی غربت یعنی بے وطنی کا رنگ نمایاں طور پر موجود ہے۔اس کے علاوہ ( تیسرے درجہ پر ) اس حدیث میں جماعت احمدیہ کی قادیان سے ہجرت کی طرف بھی اشارہ ہو سکتا ہے اور اس صورت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک الفاظ سے مراد یہ سمجھی جائے گی کہ جماعت احمدیہ کی اس ہجرت کے ابتدائی دھکے کے بعد انشاء اللہ صداقت پنینی شروع ہو جائے گی اور گو یا ترقی کے زمانہ کی داغ بیل رکھ دی جائے گی۔تعجب ہے کہ آجکل اسی حدیث پر ایک مفصل مضمون لکھنے کا ارادہ کر رہا تھا مگر بیماری کی وجہ سے اب تک نہیں لکھ سکا کہ اچانک آج کے الفضل میں ایڈیٹر صاحب کا مضمون چھپ گیا۔لہذا فی الحال یہ مختصر سا نوٹ اخبار میں بھجوا رہا ہوں۔بہر حال عربی زبان میں غریب کے معنی مفلس اور نادار کے نہیں بلکہ بے وطن یا وطن سے دور کے ہیں اور اسی کے مطابق اس حدیث کی تشریح ہونی چاہیئے اور یہی وہ معنی ہیں جس کے مطابق یہ حدیث ایک بڑے شائد مفہوم کی حامل بنتی ہے۔واللہ اعلم بالصواب ولا علم لفا الا ما علمه الله ( مطبوعه الفضل یکم مارچ ۱۹۵۰ء)