مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 795 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 795

۷۹۵ مضامین بشیر طوبى اللغرباء والی حدیث پر الفضل کا نوٹ اس حدیث کی اصل تشریح اور ہے آج مورخه ۲۵ رفروری ۱۹۵۰ء کے الفضل میں طوبیٰ للغرباء والی حدیث پر ایک نوٹ شائع ہوا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ الہی سلسلوں کی ابتداء غریبوں اور کمزور لوگوں کے طبقہ سے ہی ہوا کرتی ہے۔چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں یہی ہوا کہ شروع شروع میں صرف غریب لوگوں نے مانا اور اب آخری زمانہ کے لئے بھی یہی مقدر تھا وغیرہ وغیرہ یہ مضمون اپنی جگہ بالکل درست اور صحیح ہے لیکن طوبى للغرباء والی حدیث کے ساتھ اس کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ عربی زبان میں غریب کے معنی (جس کی جمع غرباء ہے ) اردو زبان والے غریب یعنی مفلس اور نادار کے نہیں ہیں بلکہ ”بے وطن اور وطن سے دور“ کے ہیں۔در اصل طوبى للغرباء (یعنی بے وطنوں کے لئے خوشخبری ہو ) والی حدیث میں ایک اور لطیف مضمون کی طرف اشارہ ہے۔پوری حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے الفاظ غالباً اس طرح بیان ہوئے ہیں کہ : بدأ لاسلام غريباً وسيعود غريباً فطوبى للغرباء۔دد یعنی اسلام کے استحکام کی ابتداء بے وطنی کی حالت میں ہوئی ہے اور ایک زمانہ آ رہا ہے کہ اسلام پھر بے وطن ہو جائیگا اور اس کے بعد پھر دوبارہ بے وطنی کی حالت میں ہی ترقی کرے گا۔پس خوشخبری ہو اس بے وطنی کا زمانہ پانے والے لوگوں کے لئے۔“ اس حدیث میں جو ایک نہایت لطیف معنی پر مشتمل ہے پہلی بے وطنی میں تو مدینہ کی ہجرت کی طرف اشارہ ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ گو اسلام نے مکہ میں جنم لیا لیکن اس کا استحکام اس وقت سے شروع ہوا جبکہ وہ اپنے اصلی گھر سے بے وطن ہو کر مدینہ میں پہنچا اور یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ دراصل مدینہ کی ہجرت کے بعد ہی اسلام کے استحکام کا زمانہ شروع ہوا تھا اور نہ اس سے قبل وہ گویا ایک ٹھٹھرے ہوئے بیج کی طرح محصور پڑا تھا لیکن جو نہی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور