مضامین بشیر (جلد 2) — Page 794
مضامین بشیر ۷۹۴ مکہ میں ہر قسم کے مظالم برداشت کئے اور سامنے سے انگلی تک نہیں اٹھائی بہادر نہیں تھے ؟ اور کیا نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم صلح حدیبیہ میں کفار مکہ کے خلاف تلوار روک کر مسلمانوں کو بزدل بنانا چاہتے تھے ؟ ہرگز نہیں ہرگز نہیں۔آپ تو خود فرماتے ہیں کہ : ليس الشديد بالصرعة ولكن الشديد الذي يملك نفسه عند الغضب ۱۵ د یعنی بہادر وہ نہیں جو بات بات پر جوش میں آ کر لوگوں کو پچھاڑ دے بلکہ بہادر وہ ہے جو غصہ کے وقت میں اپنے نفس کو قابو میں رکھے۔“ پس ضرورت کے وقت ضبط نفس دکھانا شجاعت پیدا کرنے کا بھاری نفسیاتی نکتہ ہے نہ کہ بزدلی اور پست ہمتی پیدا کرنے کا ذریعہ۔آخر حضرت عیسی علیہ السلام بھی تو خدا کے ایک برگزیدہ رسول تھے جنہوں نے اپنے حواریوں سے فرمایا کہ:- شریر کا مقابلہ نہ کرنا بلکہ اگر کوئی تیرے داہنے گال پر طمانچہ مارے تو تو دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دے اور اگر کوئی تیرا کر تہ لینا چاہے تو تو چوغہ بھی اسے لینے دے۔الغرض جمال و جلال سب اپنے اپنے وقت اور اپنے اپنے حالات کی باتیں ہیں اور سچا اور ابدی فلسفہ یہی ہے کہ صبر کے زمانہ میں جمال دکھا کر صبر کرنے والا بہادر ہے اور لڑنے کے زمانہ میں جنون کا روپ لے کر لڑوانے والا بہادر ہے اور مبارک ہے وہ جو اس نکتہ کو سمجھے ! ( مطبوعه الفضل ۲۸ رفروری ۱۹۵۰ء)