مضامین بشیر (جلد 2) — Page 792
مضامین بشیر ۷۹۲ نے صرف یہ فرمایا ہے کہ چونکہ اس زمانہ میں کوئی قوم اسلام کو مٹانے کے لئے تلوار سے کام نہیں لے رہی اس لئے موجودہ حالات میں ( صلح حدیبیہ کے ایام کی طرح ) جہاد بالسیف کا حکم ملتوی سمجھا جائے گا چنانچہ آپ اپنی ایک مشہور نظم میں فرماتے ہیں :- کیوں بھولتے ہو تم يَضَعُ الحرب کی خبر کیا یہ نہیں بخاری میں دیکھو تو کھول کر فرما چکا ہے کونین مصطفی سید عیسی مسیح جنگوں کا کر دے گا التوا " ان اشعار میں التوا کا لفظ جس کے معنی وقتی طور پر پیچھے ڈالنے یا معلق کرنے کے ہیں۔کتنا واضح اور کتنا صاف ہے! اور یہ اس بات کا قطعی ثبوت ہے کہ نعوذ باللہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد بالسیف کے حکم کو منسوخ قرار نہیں دیا بلکہ صرف موجود الوقت حالات کے ماتحت ( صلح حدیبیہ کے ایام کی طرح معلق اور ملتوی قرار دیا ہے۔پھر اس التوا کی تشریح کرتے ہوئے اگلے شعر میں فرماتے ہیں کہ :۔یعنی وہ وقت امن کا ہوگا نہ جنگ کا بھولیں گے لوگ مشغله تیر و تفنگ کا یہ شعر بھی کتنا واضح اور کتنا زور دار ہے اور اس کا مطلب یہی ہے کہ مسیح موعود کے زمانہ میں جہاد بالسیف بند تو بے شک ہوگا۔مگر وہ اس لئے بند نہیں ہوگا کہ نعوذ باللہ یہ قرآنی حکم منسوخ ہو گیا ہے بلکہ محض وقتی حالات کی وجہ سے ملتوی ہوگا۔کیونکہ وہ زمانہ امن کا ہوگا اور کوئی قوم اسلام کو مٹانے کی غرض سے شمشیر بکف نہیں ہوگی لیکن اگر آئندہ چل کر کوئی قوم اسلام کو مٹانے کے لئے تلوار اٹھائے گی تو امام وقت کے حکم سے وہ تلوار کا جواب تلوار سے پائے گی۔بہر حال یہ ایک کھلی ہوئی حقیقت ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جہاد بالسیف کا حکم ہرگز منسوخ قرار نہیں دیا۔اور نہ ایک خادم رسول اور تابع قرآن ہونے کے لحاظ سے آپ کا یہ منصب تھا کہ کسی اسلامی حکم کو منسوخ فرما ئیں۔یہ صرف وقتی حالات کا فتوی تھا اور عین اس فتوئی کے مطابق تھا جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد کفار مکہ کے متعلق جاری فرمایا اور یہ اسلام کا فتویٰ ہے باقی اگر اب یا آئندہ چل کر کوئی قوم اسلام کو مٹانے کے لئے تلوار اٹھائے اور طاقت کے زور سے خدائی نور کو بجھانا چاہے۔تو یقیناً امام کے حکم کے ماتحت اس کے خلاف جہاد بالسیف کا فتویٰ پھر عاید ہو جائے گا۔فانهم و تدبر۔میرا یہ نوٹ صرف شرعی جہاد کے متعلق ہے جو خاص حالات میں امام