مضامین بشیر (جلد 2) — Page 791
۷۹۱ مضامین بشیر تکرار اور صراحت کے ساتھ فرمایا ہے کہ قرآن کا کوئی حکم منسوخ نہیں اور نہ ہوسکتا ہے۔دراصل جس بات کو نہیں سمجھا گیا وہ یہ ہے کہ شریعت کے بعض احکام بعض خاص حالات کے ساتھ مشروط ہوتے ہیں یعنی بعض خاص قسم کے حالات میں ایک قسم کا حکم چلتا ہے۔اور بعض دوسری قسم کے حالات میں دوسری قسم کا حکم نافذ ہوتا ہے۔مثلاً قرآن شریف حج کا حکم دیتا ہے مگر اس کے ساتھ یہ واضح شرط لگاتا ہے کہ ایک تو حج کرنے والے کے پاس حج کا خرچ موجود ہوا ور دوسرے اس کے لئے رستہ میں امن بھی ہو۔اب اگر کسی مسلمان کو یہ دونوں باتیں میسر ہوں گی تو اس پر حج فرض ہوگا اور اگر یہ باتیں میسر نہیں ہونگی تو اس پر حج فرض نہیں ہو گا مگر حج فرض نہ ہونے کی صورت میں کوئی شخص یہ نہیں کہہ سکتا کہ ایسے شخص کے لئے حج کی آیت منسوخ ہو گئی ہے۔یہی حال جہاد بالسیف کا ہے کہ وہ اس شرط کے ساتھ مشروط ہے کہ کوئی کا فرقوم مسلمانوں کے خلاف ان کے دین کو مٹانے اور اسلام کو نابود کرنے کی غرض سے تلوار اٹھائے اور ان حالات کی بنا پر مسلمانوں کی جماعت کا امام جہاد بالسیف کا فتوی دے۔پس جہاں کہیں بھی اس قسم کے حالات پیدا ہوں گے جہاد بالسیف فرض ہو جائے گا اور جہاں یہ حالات نہیں ہو نگے وہاں جہاد جائز نہیں رہے گا۔اس کی موٹی مثال صلح حدیبیہ کے حالات میں ملتی ہے۔مکہ کے قریش نے اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف تلوار اٹھائی اور اسلام کو طاقت کے زور سے مٹانا چاہا۔جس پر مناسب اتمام حجت کے بعد قرآن نے بھی ان کے خلاف جہاد بالسیف کا حکم دیا اور یہ خونریز لڑائی برابر چھ سال تک جاری رہی لیکن جو نہی کہ قریش نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حدیبیہ کے میدان میں صلح کی شرائط طے کیں اور ان کی طرف سے جبر فی الدین کی کیفیت باقی نہ رہی تو با وجود اس کے کہ وہ اب بھی اسلام کے دشمن تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے خلاف تلوار کا جہادفور بند کر دیا۔یہ مثال جو ہمارے آقاصلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے ایک نہایت اہم اور معروف ومشہور واقعہ سے تعلق رکھتی ہے قطعی طور پر ثابت کرتی ہے کہ جہاد بالسیف کا حکم صرف خاص حالات کے ساتھ مشروط ہے اور جب یہ حالات مفقود ہوں تو تلوار کے جہاد کا حکم وقتی طور پر معلق ہو جاتا ہے۔غور کرو کہ اگر جیسا کہ ہمارے معترض صاحبان خیال کرتے ہیں تلوار کا جہاد ہر حالت میں ہر کا فرقوم کے خلاف فرض ہے تو پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد کفار مکہ کے خلاف جہاد کیوں بند کیا۔حالانکہ وہ اس صلح کے بعد بھی کا فراور دشمن اسلام تھے ؟ یہی صورت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتوی کی ہے آپ نے کہیں یہ نہیں فرمایا کہ اب تلوار کا جہاد ہمیشہ کے لئے بند ہے اور یہ کہ نعوذ باللہ قرآن شریف کی متعلقہ آیات منسوخ ہو گئی ہیں۔بلکہ آپ