مضامین بشیر (جلد 2) — Page 751
۷۵۱ مضامین بشیر کسی سچے مومن کا ذاتی ” گلہ شکوہ" اسے ایمان سے متزلزل نہیں کر سکتا اعمال کے مدارج کو ملحوظ رکھنا بہر حال ضروری ہے خلافت کا نظام نبوت کے نظام کا تمہ ہے کچھ عرصہ ہوا مجھ سے ایک صاحب نے جو قادیان سے ہجرت کر کے لاہور آئے ہوئے ہیں ذکر کیا کہ جب قادیان میں مجھے فلاں صدمہ پہنچا تھا۔تو اس وقت میں حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ سے مشورہ کرنے اور حضور کے مشورہ سے تسکین پانے کی غرض سے حضور سے ملاقات کے لئے گیا تھا۔مگر کافی دیر تک انتظار کرنے کے باوجود پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے مجھے ملاقات کا موقعہ نہیں دیا۔حالانکہ میں اس وقت بیمار بھی تھا۔اور کئی لوگ جو میرے بعد آئے تھے انہیں ملاقات کا موقعہ دے دیا گیا۔ان صاحب نے یہ بھی بتایا کہ ملاقات کے لئے منتخب ہونے والوں کی فہرست پرائیویٹ سیکرٹری کے دفتر کی طرف سے حضرت صاحب کی خدمت میں بھجوائی گئی تھی اور حضور ہی کے انتخاب کے ماتحت ملاقات کرنے والوں کے نام چنے گئے تھے۔اس لئے مجھے سخت دل برداشتہ ہو کر اور انتہا درجہ کی جسمانی اور روحانی کوفت اٹھا کر واپس آنا پڑا۔جس کا مجھے بے حد رنج ہوا اور اب تک رنج ہے۔اس واقعہ کا ذکر کرنے کے بعد ان صاحب نے کمال سادگی کے انداز میں مجھ سے پوچھا کہ ان حالات میں مجھے کیا کرنا چاہئے۔اور ساتھ ہی فرمایا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت کی صداقت پر تو مجھے پورا پورا ایمان ہے۔اور یہ تعلق کبھی کٹ نہیں سکتا۔مگر اس واقعہ کی وجہ سے مجھے حضرت امیرالمومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ تعلق رکھنے میں شرح صدر نہیں رہا۔یہ بات کہہ کر یہ صاحب تشریف لے گئے ( کیونکہ عین اسوقت بعض دوست ملنے کے لئے آگئے تھے ) اور جاتے ہوئے یہ صاحب کہہ گئے کہ مجھے اس کا جواب بعد میں دے دیا جائے۔چنانچہ چند دن کے بعد