مضامین بشیر (جلد 2) — Page 747
مضامین بشیر دعاؤں میں یا درکھیں۔صحابیوں کا وجود حقیقتاً ایک بڑی بھاری نعمت اور بڑی بھاری برکت کا موجب ہے۔کیونکہ یہ وہ بزرگ ہستیاں ہیں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کی روحانیت سے براہ راست فیض پایا ہے۔اپنے دیکھنے والوں کو صحابہ کرام کی مبارک جماعت میں داخل کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: مبارک وہ جو اب ایمان لایا صحابہ سے ملا جب مجھ کو پایا وہی کے ان کو ساقی نے پلادی فسبحان الذى اخزى الاعادى اوپر کی فہرست مجھے میرے لکھنے پر محترمی بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی نے مرتب کر کے بھجوائی ہے۔قادیان کے صحابیوں میں ایک صاحب بابا شیر محمد صاحب مرحوم بھی تھے جنہوں نے چند ماہ ہوئے قادیان میں وفات پائی تھی اور میرا خیال ہے کہ شائد قادیان میں دو ایک اور صحابی بھی ہونگے جو اوپر کی فہرست میں درج ہونے سے رہ گئے ہیں۔اور میں ان کے متعلق تحقیق کر رہا ہوں۔اللہ تعالیٰ ان سب کے ساتھ ہواور حافظ و ناصر رہے آمین۔یا ارحم الراحمین۔باقی جیسا کہ میں اپنے ایک سابقہ مضمون میں بتا چکا ہوں۔صحابی کی تعریف میں کافی اختلاف پایا جاتا ہے اور طبعا جوں جوں زمانہ گزرتا جاتا ہے۔لوگوں میں صحابی کی تعریف کو زیادہ سے زیادہ نرم اور زیادہ سے زیادہ وسیع کرنے کی طرف میلان پیدا ہوتا جاتا ہے۔لیکن سارے حالات کو دیکھتے ہوئے میرے نزدیک صحیح تعریف یہ مجھنی چاہئے کہ : صحابی وہ ہے۔جس نے مومن ہونے کی حالت میں نبی کا زمانہ پایا۔اور اسے نبی کو دیکھنا یا اس کا کلام سننا یا د ہے۔( مطبوعه الفضل ۱۰ جنوری ۱۹۵۰ء)