مضامین بشیر (جلد 2) — Page 61
۶۱ مضامین بشیر ہوں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ یعنی اے مسلما نو تم آپس میں نیکی اور تقویٰ کے امور میں تو ضرور تعاون کیا کرو۔66 لیکن گناہ اور ظلم و تعدی کے امور میں ہرگز تعاون نہ کیا کرو۔“ کیا اس سے زیادہ مضبوط بر یک کوئی خیال میں آسکتی ہے جو انسانی فطرت کو لگائی جا سکے۔لیکن آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صرف اس قرآنی تشریح پر ہی اکتفا نہیں کی۔بلکہ مزید تفصیل بیان کر کے گویا اخوت اسلامی کے کوڈ کو بالکل واضح اور نمایاں کر دیا ہے۔فرماتے ہیں اور کیا خوب فرماتے ہیں : عَنْ أَنَس قَالَ قَالَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْصُرُ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا، فَكَيْفَ نَنْصُرُهُ ظَالِمًا؟ فَقَالَ : تَاخُذُ فَوْقَ يَدَيْهِ۔یعنی انس روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اپنے مسلمان بھائی کی ہر حال میں مدد کرو خواہ وہ ظالم ہو یا کہ مظلوم۔اس پر صحابہ نے حیران ہو کر ) عرض کیا کہ یا رسول اللہ مظلوم بھائی کی مدد تو ہم سمجھ گئے مگر یہ ظالم بھائی کی مدد کے کیا معنی ہیں؟ آپ نے فرمایا ظالم بھائی کی مدد یہ ہے کہ اس کے ظلم کے ہاتھ کو پکڑ کر روک لو۔“ اللہ اللہ ! اللہ اللہ ! کس شان کا کلام ہے اور کس شیرینی اور کس چاشنی سے لبریز !!!! مگر افسوس ہے کہ بہت سے مسلمان بھی اس کلام کی حقیقت کو نہیں سمجھتے۔وہ صرف اس خیال کو لے کر خوش ہو جاتے ہیں کہ ہمارے رسول نے اس حدیث میں کیسے لطیف انداز میں ظالم کو روکنے کی تعلیم دی ہے۔حالانکہ یہ مفہوم اس حدیث کا صرف ایک حصہ ہے اور وہ بھی محض ثانوی حیثیت کا حصہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کا اصل مقصد اور مدعا یہ ہے کہ اسلامی اخوت کا اولین فرض یہ ہے کہ ایک مسلمان ہر حال میں اپنے مسلمان بھائی کی امداد کے لئے تیار اور ہوشیار رہے۔اور کوئی خیال اسے اس فرض کی ادائیگی سے باز نہ رکھ سکے۔حتی کہ اگر وہ اپنے مسلمان بھائی کو ظالم بھی خیال کرتا ہے تو پھر بھی اس کا فرض ہے کہ آگے آئے اور اپنے بھائی کی امداد کرے۔گو لازماً ظالم ہونے کی صورت میں یہ امداد دوسرے رنگ میں ظاہر ہو گی۔مگر بہر حال وہ کسی صورت میں اور کسی حال میں اپنے بھائی کی امداد سے پہلو تہی نہیں کر سکتا۔اگر اس کا بھائی مظلوم ہے تو وہ آئے اور اپنے مظلوم بھائی کی امداد کے لئے اپنے جان و مال کی بازی لگا دے۔اور اگر بھائی ظالم ہے تو پھر بھی وہ آگے آئے اور اپنے بھائی کے ظلم کے