مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 715 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 715

۷۱۵ مضامین بشیر بلا سوچے سمجھے کوئی قدم نہیں اٹھا تا بلکہ استخارہ کی وجہ سے جو وقفہ پیدا ہوتا ہے اس میں اسے ٹھنڈے دل سے غور کرنے اور سارے حالات کو سوچنے سمجھے کا موقع مل جاتا ہے۔۲۔استخارہ میں یہ سبق بھی مخفی ہے کہ مسلمانوں کو ہر امر میں خدا تعالیٰ کی طرف نگاہ رکھنی چاہئے اور اپنی زندگی کے ہر مرحلہ پر اسی کی مقدس یاد کو اپنا سہارا بنانا چاہئے۔۳۔استخارہ میں چونکہ خدا سے ایک دعا کی جاتی ہے اس لئے یہ دعا انسان کے دل میں تسکین کی صورت پیدا کرتی ہے اور وہ اس بات سے تسلی حاصل کرتا ہے کہ میں نے اپنے علیم وقد مر آقا کے سامنے اپنی حاجت پیش کر دی ہے اور خواہ اس دعا کا بظاہر کوئی جواب ملے یا نہ ملے یہ دعا اپنی ذات میں تسکین کا باعث بن جاتی ہے۔۴۔بسا اوقات اگر خدا چاہے تو استخارہ کے جواب میں انسان کو خواب یا کشف یا الہام کے ذریعہ خدا کا منشاء بھی معلوم ہو جاتا ہے جو بہر حال ایک کامل ہدایت کا رنگ رکھتا ہے ، جس کے بعد انسان خدا تعالیٰ پر بھروسہ کرتے ہوئے بے دھڑک قدم اٹھا سکتا ہے۔۵۔اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کوئی امر ظاہر نہ بھی ہو ( کیونکہ یہ ضروری نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ ضرور اپنا منشاء لفظاً ظاہر فرمائے ) تو اس صورت میں بالعموم خدا تعالیٰ ایسا انتظام فرماتا ہے اور یہی در اصل استخارہ کی دعا کا اصل مقصد ہے کہ خدا تعالیٰ کی تقدیر کی مخفی تاریں انسان کے دل و دماغ پر تصرف کر کے اسے ایسے راستہ پر ڈال دیتی ہیں جو اس کے لئے خیر و برکت کا موجب ہوتا ہے۔یعنی اگر پیش آمدہ امر انسان کے لئے مفید ہو تو ایسے استخارہ کے بعد اس کے متعلق شرح صدر حاصل ہو جاتا ہے اور اگر وہ اس کے لئے مفید نہ ہو تو اس کے رستہ میں روک پیدا ہو جاتی ہے اور اس ہدایت سے صرف وہی شخص محروم رہتا ہے۔جس نے یا تو استخارہ محض رسمی طور پر کیا ہو۔اور اس کے استخارہ میں کوئی جان نہ ہو۔اور یا اس کی بداعمالیوں کی وجہ سے خدا تعالی نے اسے آزاد اور بے سہارا چھوڑ دینے کا فیصلہ کر رکھا ہو۔اب غور کرو کہ یہ کتنے عظیم الشان فوائد ہیں کہ جو استخارہ کے بابرکت نظام میں ہمارے لئے مقدر کئے گئے ہیں مگر افسوس ہے کہ موجودہ زمانہ کے مادی ماحول نے اکثر لوگوں کی آنکھوں کو اس روشنی سے محروم کر رکھا ہے۔بدقسمت انسان اپنے چھوٹے چھوٹے معاملات میں اپنے دوستوں اور عزیزوں اور ہمدردوں کے مشورہ کے لئے بھاگتا ہے اور ان کے ناقص مشورہ میں جو بسا اوقات اس کے لئے مضر ہوتا ہے تسلی پانے کی کوشش کرتا ہے مگر اس علیم وقدیر ہستی کے مشورہ کی طرف قدم نہیں اٹھاتا ، جو تمام ہمدردوں سے بڑھ کر ہمدرد اور تمام محبت کرنے والوں سے بڑھ کر محبت کرنے والی اور تمام علم