مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 713 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 713

مضامین بشیر اور ڈا کہ اور زنا اور قتل وغیرہ ایسے کام نواہی کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں۔( سوم ) وہ کام جن کا نہ تو اسلام نے حکم دیا ہے اور نہ ہی ان سے روکا ہے بلکہ ان کے اختیار کرنے یا ترک کرنے کو ہر انسان کے حالات اور اختیار پر چھوڑ دیا ہے مثلاً یہ کہ میں اس عورت سے شادی کروں یا کہ اس عورت سے؟ گزارہ کے لئے نوکری کروں یا کہ تجارت ؟ فلاں سفر پر جاؤں یا کہ اسے ترک کر دوں ؟ فلاں جائیداد خریدوں یا کہ اس کا خیال چھوڑ دوں وغیر وغیرہ۔ایسے کام عموماً مباح یا مستحب وغیرہ کہلاتے ہیں۔گو ان کی بھی آگے کئی قسمیں ہیں۔اب ظاہر ہے کہ پہلی قسم کے کاموں کے متعلق استخارہ کا سوال پیدا ہی نہیں ہوسکتا۔کیونکہ یہ کام خدا نے ہم پر واجب کر رکھے ہیں۔اور جو شخص ان معاملات میں استخارہ کرتا ہے وہ دراصل زندیق ہے۔جسے خدا کے حکموں پر ایمان نہیں کیونکہ وہ ایک یقینی چیز کو شک کے میدان میں داخل کر کے باطل کرنا چاہتا ہے ، اور درحقیقت جس شاعر نے یہ مصرعہ کہا ہے کہ : در کار خیر حاجت هیچ استخاره نیست اس نے غالبا کارخیر سے اسی قسم کے فرائض اور واجبات مراد لئے ہیں ، جن میں استخارہ کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا بلکہ استخارہ کا خیال تک کرنا گناہ ہے۔اسی طرح دوسری قسم کے کاموں کے متعلق بھی استخارہ کا سوال پیدا نہیں ہوسکتا۔کیونکہ جن کاموں سے خدا نے اپنے صریح حکم کے ذریعہ روک دیا ہے۔اس میں استخارہ کیا معنی رکھتا ہے؟ بلکہ حق یہ ہے کہ ایسے کاموں میں استخارہ کرنے والا خدا تعالیٰ سے استہزاء کرتا ہے۔پس دراصل استخارہ کا حکم صرف تیسری قسم کے کاموں کے متعلق ہے یعنی جب ایک بات نہ تو فرائض اور واجبات میں سے ہے ہو اور نہ ہی وہ ممنوعات کی قسم میں داخل ہو۔تو ایسی صورت میں انسان کو چاہئے کہ اسے اختیار کرنے سے پہلے مسنون استخارہ کر لے اور میرے خیال میں تمام ایسی نیک تحریکات بھی جو واجبات میں سے نہیں ہیں اور شریعت یا امام نے انہیں ہر فرد پر واجب قرار نہیں دیا ، وہ استخارہ کے دائرہ میں آتی ہیں اور استخارہ کے بغیر ان میں قدم نہیں اٹھانا چاہیئے ، کیونکہ جیسا کہ میں اوپر بیان کر چکا ہوں ، ہو سکتا ہے کہ ایک تحریک اپنی ذات میں نیک اور بابرکت ہو مگر زید و بکر کے حالات کے لحاظ سے وہ مناسب نہ ہو۔یا آج کے حالات کے لحاظ سے تو وہ مناسب ہو لیکن جو حالات کل پیش آنے والے ہیں (اور ان کا علم صرف خدا کو ہے ان کے لحاظ سے مناسب نہ ہو تو ہر شخص سمجھ سکتا ہے کہ ایسی صورت میں استخارہ ضروری ہے اور استخارہ کے بغیر قدم اٹھانے والا شخص بسا اوقات اپنے لئے ٹھوکر کا سامان پیدا کر لیتا ہے۔حالانکہ تحریک اپنی ذات میں بالکل نیک اور مفید