مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 703 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 703

مضامین بشیر آنحضرت ﷺ کی نبوت کے لئے دوسرا زینہ بن کر آئے تھے پھر ابراھیم علیہ السلام آئے اور تو وہ اسی زینہ کے لئے ہدایت بھی لائے مگر در حقیقت وہ اپنے درخشندہ منذر اور ہادی اعظم ﷺ کی نبوت کے لئے دنیا کو تیار کرنے اور دوسرا زینہ بننے کے لئے آئے تھے پھر موسیٰ علیہ السلام آئے اور اپنی قوم کے لئے پہلی قوموں کی نسبت ایک زیادہ مکمل شریعت لائے مگر دراصل وہ بھی اپنے پیچھے آنے والی عالمگیر نبوت کیلئے قوموں کو بیدار کرنے کے لئے آئے تھے اور ختم نبوت کے لئے گویا ایک چوتھا زینہ بن گئے۔پھر عیسی علیہ السلام آئے اور گوانہوں نے اپنے زمانہ کے لوگوں کو اپنے ماحول کے مناسب حال ہدایت کا رستہ دکھایا، مگر در حقیقت ان کی نبوت بھی ہمارے آقاعے کی کا ملہ تامہ نبوت کی طرف راہنمائی کرنے اور گویا پانچواں زینہ بننے کے لئے تھی جیسا کہ خود انہوں نے تمثیلی رنگ میں کہا ہے کہ اب تو تمہارے پاس بیٹا آیا ہے ، مگر پھر خود باغ کا مالک یعنی باپ آئے گا جس میں اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا کہ میرے بعد آنے والی نبوت خدا کے کامل جلال و جمال کی مکمل تصویر ہوگی۔یہی حال دوسرے نبیوں کا ہے کہ گویا ہر نبی آنحضرت علی کی نبوت کے لئے ایک زینہ بنتا چلا گیا ہے اور خدائے ذوالجلال کی ازلی تقدیر دنیا کو آہستہ آہستہ اس کامل و مکمل نبوت کی طرف اٹھاتی چلی گئی ہے جسے اس نے نظام نبوت کا معراج بننے کے لئے مقدر کر رکھا تھا۔پس اس میں کیا شبہ ہے کہ ہمارا مقدس آقا ( فداہ نفسی ) اس وقت سے نبی ہے کہ جب بعد کے نبی تو الگ رہے ابو البشر آدم علیہ السلام بھی ابھی مٹی اور پانی میں تھے اور آنحضرت ﷺ کے بعد آنے والے امور تو بہر حال آپ کے ظل ہیں اور ظل اپنے اصل سے جدا نہیں ہوتا گویا پہلے اور پچھلے آپ کے اندر آ گئے کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے کہ :۔حسن یوسف دم عیسے ید بیضاء داری اں چہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری پس اس وقت صرف اسی مختصر نوٹ پر اکتفا کرتے ہوئے رخصت چاہتا ہوں۔( مطبوعه الفضل ۲۳ اکتوبر ۱۹۴۹ء)