مضامین بشیر (جلد 2) — Page 693
۶۹۳ مضامین بشیر قادیان کے تازہ کوائف قادیان کے تازہ خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض دوستوں کی معمولی بیماری کے سوا یا بعض بوڑھے دوستوں کے ضعف پیری کے علاوہ باقی سب دوست خدا کے فضل سے بخیریت ہیں۔مجید احمد درویش کی اچانک وفات نے اچانک اس لئے کہ درمیان میں وقفہ ہو جانے کے بعد وہ قریباً اچانک فوت ہو گیا ) درویشوں کے دل میں غم و حزن کی غیر معمولی کیفیت پیدا کر دی تھی ، لیکن اس کے بعد عید نے جبکہ ایک سچا مومن خدا کی لائی ہوئی خوشی پر خوش ہونا اپنا فرض سمجھتا ہے ، اس غم کی کیفیت پر خدائی رحمت کا سایہ کر دیا۔اور دوستوں نے خوشی خوشی عید منائی۔پہلے خیال تھا کہ اس دفعہ عید گاہ میں نماز پڑھنے کی کوشش کی جائے گی لیکن پھر اسے پولیس کا انتظام خاطر خواہ نہ ہونے کی وجہ سے حفاظت کے خیال سے مناسب نہیں سمجھا گیا۔کیونکہ عید گاہ شہر سے باہر بالکل ایک کنارے پر ہے۔پس عید گاہ کی بجائے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے باغ میں عید کی نماز پڑھی گئی۔اور عید کے دن شام کو اجتماعی دعوت کا بھی انتظام کیا گیا۔اس سال قادیان میں خدا کے فضل سے کافی تعداد میں قربانی کی گئی۔(معین فہرست بعد میں شائع کی جائے گی جن میں سے اکثر پاکستان کے دوستوں کے بھیجے ہوئے روپے سے کی گئی اور جن پاکستانی دوستوں کا روپیہ موجودہ حالات کی وجہ سے وقت پر قادیان نہیں پہنچ سکا۔ان کے متعلق میں نے لاہور سے فون اور تار اور خطوں وغیرہ کے ذریعہ قادیان اطلاع بھجوا دی تھی اور خدا کے فضل سے ایسے دوستوں کی خواہش بھی پوری ہو گئی۔اور کچھ روپیہ ہندوستان کے دوستوں کی طرف سے بھی پہنچ گیا۔عام لنگر خانہ کے استعمال کے علاوہ جن دوستوں نے عید کے ایام میں الگ کھانا پکانا چاہا انہیں علیحدہ گوشت بھی دیدیا گیا۔اور دارالصحت میں بھی بھجوایا گیا۔اور ایسے غیر مسلم ہمسایوں کو بھی بھجوایا گیا جو مسلمانوں کا ذبیحہ کھا لیتے ہیں۔اب دوست ضرورت کے وقت بٹالہ یا گورداسپور یا امرتسر ہو آتے ہیں لیکن مقامی حکام کی ہدا یت کے ماتحت ایک سپاہی ساتھ رکھنا پڑتا ہے۔جو حفاظت بھی کرتا ہے اور نگرانی بھی رکھتا ہے۔چنانچه ۱۰ اکتوبر کو بعض دوست امرتسر گئے ان میں بھائی شیر محمد صاحب دوکاندار بھی تھے انہوں نے امرتسر کے بعض غیر مسلم دوکانداروں کے پاس جا کر کہا کہ میں حالات کی تبدیلی کی وجہ سے جلد