مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 57 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 57

۵۷ مضامین بشیر (۱) ایک منبع سے نکلا ہوا ہونا (۲) ہم رنگ و ہم جنس ہونا اور (۳) با ہمی مساویانہ حقوق رکھنا اور ان سب اخوتوں کو اسلام نے انتہائی تقدس اور ذمہ داری کا رنگ دے کر اسلامی سوسائٹی کو گویا آپس میں آہنی زنجیروں کے ساتھ باندھ دیا ہے۔لیکن اس جگہ میرا یہ نوٹ اخوتِ دینی سے تعلق رکھتا ہے۔جسے وسیع اسلامی اخوت کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللهِ جَمِيْعًا وَلَا تَفَرَّقُوا وَاذْكُرُ وا نِعْمَتَ اللهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُمْ بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا د یعنی اسے مسلمانو ! تم سب اکٹھے ہو کر خدا کے دین کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رکھو۔اور آپس میں تفرقہ نہ پیدا ہونے دو۔اور اللہ کی اس عظیم الشان نعمت کو یا درکھو کہ کفر اور بے دینی کی حالت میں تم ایک دوسرے کے دشمن اور خون کے پیاسے تھے۔مگر اسلام کے ذریعہ خدا نے تمہارے دلوں میں محبت پیدا کر دی اور تم آپس میں بھائی بھائی بن گئے۔“ پھر فرماتا ہے :- إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللهَ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ۔۳۴ د و یعنی تمام مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں۔پس اگر کسی وجہ سے بعض مومنوں میں اختلاف پیدا ہو جایا کرے تو ان میں فوراً صلح کرا کے اسلامی اخوت کی عمارت کو شکستہ ہونے سے بچالیا کرو اور آپس کے تعلقات میں خدا کا تقویٰ اختیار کرو تا کہ تم اس کے فضل ورحم سے حصہ پاؤ۔“ اس اسلامی اخوت کی تشریح میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- تَرَى المُؤْمِنِينَ فِى تَرَاحُمِهِمْ وَتَوَادِهِمُ وَتُعَاطُفِهِمْ كَمَثَلِ الْجَسَدِ ۳۵ إِذَا اشْتَكَى عُضُوًا تَدَاعَى لَهُ سَائِرُ جَسَدِهِ بِالسَّهْرِ وَالْحُمَّى یعنی تو دیکھے گا کہ تمام مومن ایک دوسرے کے ساتھ رحمت وشفقت کا سلوک کرنے اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھنے اور ایک دوسرے کی طرف تعاون اور مفاہمت کی روح کے ساتھ جھکنے میں بالکل جسم انسانی کا سا رنگ رکھتے ہیں۔کیونکہ جسم انسانی کی طرح مومنوں کی جماعت میں بھی یہ طبعی نظارہ نظر آتا ہے کہ جب اس جسم کا کوئی عضو بیمار ہوتا ہے تو باقی ماندہ جسم بھی اس بیمار عضو کی ہمدردی