مضامین بشیر (جلد 2) — Page 658
مضامین بشیر ۶۵۸ ایک درویش کی والدہ کا انتقال درویش مذکور کا قابل تعریف نمونه اطلاع ملی ہے کہ عبد الکریم صاحب خالد درویش قادیان کی والدہ صاحبہ کا گوجرانوالہ میں انتقال ہو گیا ہے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اس صدمے کی اطلاع ملنے پر عبد الکریم صاحب خالد نے جس صبر و رضا کا نمونہ دکھا یا وہ بہت قابل تعریف ہے۔چنانچہ رپورٹ آئی ہے کہ جب عبد الکریم صاحب خالد کو اس کی والدہ کی وفات کی اطلاع ملی تو اس نے انا الله و انا اليه راجعون۔پڑھتے ہوئے کہا میری والدہ مرحومہ کو مجھ سے بہت محبت تھی اور مجھے بھی اپنی والدہ کے ساتھ بہت محبت تھی اور ماں بے شک ایک بہت بھاری نعمت ہے، لیکن جس خدمت کا مجھے اس وقت قادیان میں موقع مل رہا ہے ، وہ اس سے بھی زیادہ بھاری ہے۔اور قربانی اس چیز کا نام ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کی رضا کے لئے اپنی بہترین اور پسندیدہ چیزوں کی قربانی پیش کریں۔اسی طرح عبد الکریم خالد کے والد خواجہ عبد الواحد صاحب عرف پہلوان نے بھی اپنے اکلوتے بیٹے کو اس کی والدہ کی وفات کی اطلاع دیتے ہوئے صبر و قتل کی نصیحت کی ہے۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا وہ شعر یاد کرایا ہے جو حضور نے اپنے فرزند مبارک احمد کی وفات پر لکھا تھا ، یعنی بلانے والا ہے سب سے پیارا اسی پہ اے دل تو جاں فدا کر دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحومہ کو اپنے فضل و رحمت کے سایہ میں جگہ دے اور اس کے پسماندگان کا حافظ و ناصر ہو۔آمین۔( مطبوعہ الفضل ۸/ ستمبر ۱۹۴۹ء)