مضامین بشیر (جلد 2) — Page 633
۶۳۳ مضامین بشیر کونسی سینما فلم اچھی سمجھی جائے اور کونسی بُری؟ اور اس کا فیصلہ کس کی رائے پر ہو گا ؟ چند دن ہوئے میں نے سنیما کے متعلق الفضل میں ایک مضمون لکھا تھا۔اس کے متعلق مجھے بعض دوستوں کی طرف سے اس قسم کے سوالات پہنچے ہیں کہ جب سینما فلم اپنی ذات میں منع نہیں ہے اور صرف خلاف اخلاق عناصر کے شامل ہو جانے کی وجہ سے ممنوع قرار پاتی ہے تو پھر کس فلم کو اچھا سمجھا جائے اور کس کو بُرا اور اس بات کا فیصلہ کون کرے کہ کونسی فلم اچھی ہے اور کونسی بُری اور کس فلم کا دیکھنا جائز ہے اور کس کا ناجائز وغیرہ وغیرہ۔سو یہ سوالات پہلے سے میرے مدنظر تھے اور میں ان کے متعلق اپنے مضمون کی دوسری قسط میں اظہار خیال کرنا چاہتا تھا مگر اچھا ہوا کہ دوستوں نے مزید توجہ دلا کر مجھے اس مضمون کے دوسرے حصہ کے متعلق جلدی کرنے کا خیال پیدا کر دیا۔لہذا میں ذیل کی سطور میں مختصر طور پر اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہوں۔سب سے پہلے تو میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ جو کچھ میں نے اپنے پہلے مضمون میں لکھا تھا یا جو کچھ کہ میں اپنے موجودہ مضمون میں لکھنے لگا ہوں وہ میرا ذاتی خیال ہے اور ضروری نہیں کہ جماعت کے ذمہ وار مفتی صاحبان کو میرے خیال سے اتفاق ہو اور یہ بھی ظاہر ہے کہ اگر انہیں میرے خیال سے اتفاق نہ ہو تو بہر حال جماعتی احترام اور جماعتی نظام اس بات کا متقاضی ہے کہ اس صورت میں میں اپنی زبان بند کرلوں۔مگر جب تک میرے لئے یہ راستہ کھلا ہے میں نیک نیتی اور دیانتداری کے ساتھ اپنے خیالات کے اظہار کا حق رکھتا ہوں اور اسے استعمال کروں گا۔وماتوفیقی الا بالله العظيم سہولت کے خیال سے میں اس جگہ پہلے دوسرے سوال کو لیتا ہوں۔یعنی یہ کہ اس بات کا کون فیصلہ کرے گا کہ کونسی فلم خلاف اخلاق عناصر کی وجہ سے ناجائز اور ممنوع ہے اور کونسی فلم جائز اور حلال ہے؟ سواسی سوال کا پہلا جواب تو میری طرف سے یہ ہے کہ میرا مضمون صرف علمی نقطہ نگاہ پرمبنی ہے ورنہ مجھے اس مسئلہ کے انتظامی پہلو سے نہ تو کوئی تعلق ہے اور نہ مجھے اس میں دخل دینے کا کوئی حق ہے۔جماعتی انتظامیہ کے ماتحت یہ کام غالباً نظارت امور عامه یا نظارت تربیت کا ہے اور یہی دو نظارتیں اس بات کا حق رکھتی ہیں کہ اس مسئلہ کے انتظامی پہلو کے متعلق کوئی اعلان کریں یا نگرانی کی