مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 573 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 573

۵۷۳ مضامین بشیر ہے لیکن موٹے طور پر دوستوں کو یہ بات یاد رکھنی چاہیئے کہ قرآن کریم کی آیات چار قسم کے مطالب پر مشتمل ہیں اور ہر قرآن پڑھنے والے شخص کو ان چاروں قسم کے مطالب کی طرف نگاہ رکھنی چاہیئے تا کہ قرآن کریم کی تلاوت کو زیادہ سے زیادہ مفید بنایا جا سکے۔یہ چار قسم کے مطالب جن کی طرف قرآن کریم کے شروع میں ہی اشارہ کر دیا گیا ہے یہ ہیں :- ا۔بعض آیتوں میں بعض باتوں کا علم دیا گیا ہے یعنی یہ کہ یہ کام کر دیا یہ اعمال بجالاؤ تا کہ تم دین و دنیا میں کامیابی اور کامرانی کا منہ دیکھ سکو۔ایسے احکام عربی محاورہ کے مطابق اوا مر کہلاتے ہیں یعنی مثبت حکموں والی آیات۔۲۔اس کے مقابل پر بعض آیات میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ فلاں کام نہ کرو یا فلاں قسم کے عمل سے بچ کر ر ہوتا کہ تم دین و دنیا میں ہلاکت کے راستہ سے محفوظ رہ سکو ایسے احکام عربی محاورہ میں نواهی کہلاتے ہیں یعنی منفی حکموں والی آیات۔۳۔پھر بعض آیات میں یہ ذکر ہوتا ہے کہ فلاں قوم نے یہ یہ نیک کام کئے اور اس لئے خدا تعالیٰ نے اس پر اپنے فضل اور رحمت کی بارش برسائی اور اسے دین ودنیا میں کامیاب کیا ہے۔یہ گروہ قرآنی محاورہ میں منعم علیہ گروہ کہلاتا ہے۔۴۔اور اس کے مقابل پر بعض آیات میں یہ ذکر آتا ہے کہ فلاں قوم نے یہ یہ بد اعمالیاں کیں اور اس وجہ سے خدا نے اس پر عذاب نازل کیا اور دین و دنیا میں روسیا ہی حاصل ہوئی یہ گروہ قرآنی حدود میں مغضوب علیہ گروہ کہلاتا ہے۔اور جیسا کہ میں اوپر بتا چکا ہوں ان چاروں قسم کے مطالب کی طرف قرآن کریم نے اپنے شروع میں ہی اشارہ کر دیا ہے چنانچہ سورۃ فاتحہ میں فرماتا ہے :- ۶۴ اهْدِنَا الصِرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ د یعنی اے خدا تو ہمیں اس قرآن کے ذریعہ تمام وہ باتیں بتا دے جو ہمیں کرنی چاہئیں۔اور اسی طرح تمام ان باتوں پر آگاہ کر دے جو ہمیں نہیں کرنی چاہئیں اور پھر ہمیں انعام پانے والے اور غضب کا نشانہ بننے والے ہر دوگروہوں کے حالات بھی بتادے تا کہ ہم انعام پانے والوں کے رستہ کو اختیار کرسکیں اور عذاب کا نشانہ 66 بننے والوں کے رستہ سے بچ سکیں۔اب اگر غور سے دیکھا جائے تو ساری قرآنی آیتیں انہی چار قسم کے مطالب میں منقسم نظر آتی ہیں۔