مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 46 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 46

مضامین بشیر ۴۶ تھیں۔ایک تو یہ کہ وہ ہر غریب و امیر کی خوشی اور غم میں اس طرح شریک ہوتی تھیں کہ گویا وہ خوشی اور غم خود ان کا اپنا ہے۔کسی کے بیاہ میں جاتیں تو جاتے ہی سارے انتظامات کو اس طرح اپنے ہاتھ میں لے لیتیں کہ گویا یہ خود ان کے اپنے گھر کی شادی ہے اور سب سے زیادہ خوشی انہی کو ہے۔یہ نظارہ ان کے ساتھ تعلق رکھنے والے خاندانوں نے دس ہیں دفعہ نہیں بلکہ سینکڑوں دفعہ دیکھا ہوگا کیونکہ وہ اتنی ہر دلعزیز تھیں کہ ہر گھر انہیں بلانے میں خوشی اور فخر محسوس کرتا تھا اور وہ جہاں جاتی تھیں شادی کی رونق کو دوبالا کر دیتی تھیں۔دوسرا نمایاں وصف سیدہ مرحومہ میں یہ تھا کہ وہ اپنے بچوں کے لئے نہائت درجہ شفیق اور محبت کرنے والی ماں تھیں اور ان کا دل اس خواہش سے ہمیشہ معمور رہتا تھا کہ وہ اپنی بچیوں کا گھر بہترین صورت میں آباد ہوتا دیکھ لیں۔غالباً وہ کبھی کسی شادی میں شریک نہیں ہوئیں کہ جب انہوں نے اپنے ملنے والوں سے یہ دردمندانہ استدعا نہ کی ہو کہ میری لڑکیوں کے واسطے بھی دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ انہیں اچھے کر اور اچھے گھر عطا کرے۔خدا کی گہری اور از لی تقدیر کے ماتحت انہیں یہ خوشی دیکھنی نصیب نہیں ہوئی مگر عزیزہ امتہ الحکیم سلمہا کے رخصتانہ کے دن وہ کون سا دل تھا جو حالات سے واقف ہوتے ہوئے مرحومہ کے ان اوصاف کو یاد کر کے مرحومہ کے درجات کی بلندی اور اس کی اولاد کی دینی دنیوی بہبودی کے لئے دست بدعا نہ ہوا ہو۔ہم سب اس وقت انتہا درجہ خوش بھی تھے اور انتہاء درجہ غمگین بھی۔خوش اس لئے کہ مرحومہ کی سب سے بڑی بچی مرحومہ کی ان ہزاروں دعاؤں کو اپنے ساتھ لئے ہوئے جو وہ اپنی اولاد کے واسطے دن رات کیا کرتی تھیں، اپنا نیا گھر آباد کرنے کے لئے جارہی تھی۔اور غمگین اس لئے کہ آج مرحومہ جو اس وقت سب سے زیادہ خوش ہونے کا حق رکھتی تھی اور جس کے دل میں اس دن کے دیکھنے کی کتنی زبر دست خواہش اور زبر دست تمنا تھی اور جو اپنی شرکت سے دوسروں کی خوشی کو بھی دوبالا کر دیا کرتی تھی۔اس دنیا میں موجود نہیں ہے۔اس وقت مجھے حالی کا وہ شعر یا د آیا جو اس نے غالب کی وفات پر کہا تھا کہ :- بار ا حباب جو اٹھاتا تھا دوش احباب پر سوار ہے آج میرے دل نے کہا کہ مرحومہ نے اپنی ساری عمر لوگوں کے بوجھ اٹھانے اور ان کی خوشیوں کو اپنی خوشی بنانے میں گزار دی لیکن جب اس کی اپنی بچی کی شادی کا وقت آیا تو وہ اگلے جہان میں پہنچ چکی ہے اور اس کی جگہ کام کرنے والے دوسرے لوگ اور خوشی منانے والے دوسرے لوگ اور اس کی بچی کے رخصت ہونے پر غم کے آنسو بہانے والے بھی دوسرے لوگ ہیں۔میرا یہ مطلب نہیں کہ مرحومہ کے قائم مقاموں نے اس انتظام میں اور اس موقع کی مخلوط خوشی اور غم کے مخلصانہ اظہار میں کسی رنگ میں کمی کی ہے بلکہ جیسا کہ میں سنتا رہا ہوں، ان کی مخصوص قائم مقام نے جو اس وقت مرحومہ کے بچوں