مضامین بشیر (جلد 2) — Page 551
۵۵۱ مضامین بشیر - وأَمَّرَ عليهم اباعبيدة بن الجراح وهم ثلاث مائة، فخر جنا فكنا ببعض الطريق فَنِيَ الزاذ فأَمَرَ ابو عبيدة بازواد الجيش فَجُمِعَ، فكان مِزْوَدَ تَمُير، فكان يقوتنا كل يوم قليلاً قليلاً حتَّى فَنِي فَلَمُ يكن يُصِيبَنَا الا تمرة تمرة د یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کی ایک پارٹی ساحل سمندر کی طرف روانہ کی۔اور سریہ کا امیر (اپنے مقرب صحابی ) ابوعبیدہ بن جراح کو مقرر فرمایا اور یہ پارٹی تین سو صحابہ پر مشتمل تھی۔روای کہتا ہے کہ ہم اس سر یہ میں نکلے لیکن ( رستہ بھول جانے کی وجہ سے ) ابھی ہم اس کے رستہ میں ہی تھے کہ ہمارا زاد کم ہونا شروع ہو گیا۔اس پر ابو عبیدہ نے حکم دیا کہ سب لوگوں کی خوراک کا ذخیرہ جمع کر لیا جائے تو یہ سارا جمع شدہ ذخیرہ دو تو شہ دان بنا۔اس کے بعد ابو عبیدہ ہمیں اس ذخیرہ میں سے تھوڑی تھوڑی خوراک تقسیم کرواتے تھے حتی کہ یہ ذخیرہ اتنا کم ہو گیا کہ بالآخر ہمارا راشن ایک کھجور فی کس پر آ گیا۔“ اس روایت سے یہ بھاری اصول مستنبط ہوتا ہے کہ خاص ہنگامی حالات میں خوراک کے انفرادی ذخائر کو اکٹھا کر کے قومی ذخیرہ میں منتقل کیا جا سکتا ہے۔اسی طرح ایک دوسری روایت آتی ہے کہ: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إِنَّ لا شُعَر يين اذا ارملوا في الغزو أو قل طعامُ عِيالهم بالمدينة جمعوا ما كان عندهم في ثَوبٍ واحدٍ، ثُمَّ ۴۶ اقْتَسَمُوهُ ابينهم فى إناء واحدٍ بالسَّوِيَّةِ فهم منى وانا منهم د یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ اشعر قبیلہ کے لوگوں کا یہ طریق ہے کہ جب کسی سفر میں انہیں خوراک کا ٹوٹا پڑ جاتا ہے یا حضر کی حالت میں ہی ان کے اہل وعیال کی خوارک میں کمی آجاتی ہے تو ایسی صورت میں وہ سب لوگوں کی خوراک ایک جگہ جمع کر لیتے ہیں اور پھر اس جمع شدہ خوراک کو ایک ناپ کے مطابق سب لوگوں میں مساویانہ طریق پر بانٹ دیتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جن کا میرے ساتھ حقیقی جوڑ ہے اور میرا ان کے ساتھ حقیقی جوڑ ہے۔“ یہ الفاظ جس بلند اور شاندار روح کا اظہار کر رہے ہیں وہ کسی تشریح کے محتاج نہیں مگر افسوس ہے کہ دنیا نے اپنے اس عظیم الشان محسن کی قدر نہیں کی۔