مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 550 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 550

مضامین بشیر۔کر رکھی ہے یعنی یہ دونوں نظام انسان کو جد و جہد کے میدان سے نکال کر کسی نہ کسی کھونٹے کے ساتھ باندھنا چاہتے ہیں اور یہ صرف اسلام ہی ہے جس نے وسطی رستہ اختیار کر کے ایک طرف تو انسان کی انفرادی جد و جہد کو قائم رکھا ہے اور دوسری طرف خاص حالات کے پیش نظر نیز قوم میں اخوت اور اتحاد کی روح قائم رکھنے کے لئے بعض خارجی سہارے بھی مہیا کر دیے ہیں اور یہی وہ رستہ ہے جس سے انسان کا دماغ کند اور منجمد ہونے سے بچ سکتا ہے ورنہ جو لعنت آج دنیا کے سامنے سرمایہ داری نے پیدا کی ہے وہی کچھ عرصہ کے بعد ایک مختلف صورت میں اشتراکیت کے ذریعہ دنیا کے سامنے آنے والی ہے۔استثنائی حالات میں خوراک کی مساویانہ تقسیم دولت کی تقسیم کے متعلق اس حکیمانہ نظریہ کے باوجود جس میں عام حالات کے ماتحت جبری طریق کے اختیار کرنے کے بغیر دولت کو منصفانہ رنگ میں سمونے کا انتظام کیا گیا ہے تا کہ انفرادی جد و جہد کا محرک بھی قائم رہے اور ملکی دولت چند ہاتھوں میں جمع بھی نہ ہونے پائے۔اسلام اس بات کی تعلیم دیتا ہے کہ اگر کبھی کوئی ایسے خاص حالات پیدا ہو جائیں کہ کسی ملک یا قوم یا بستی کی خوراک کے ذخیرہ میں کمی آجائے یعنی ایک حصہ کے پاس اس کی اقل ضرورت سے بھی کم ہو یا بالکل ہی نہ ہو تو زائد خوراک موجود ہو اور دوسرے حصہ کے پاس تو اس قسم کے ہنگامی حالات میں خوراک کی مساویانہ تقسیم کا جبری بھی جاری کیا جاسکتا ہے۔چنانچہ روایت آتی ہے کہ : خرجنا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم في غزوة، فاصا بنا جهد ، حتى هَمَمْنَا ان نَسْحَرَ بعض ظهر نا، فَأَمَرَ النبي الله صلى الله عليه وسلم فجمعنا تزوادنا ۴۴ یعنی ہم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک غزوہ میں نکلے مگر رستہ میں ہمیں خوراک کی سخت کمی پیش آگئی حتیٰ کہ ہم نے ارادہ کیا کہ اپنی سواریوں کے بعض اونٹ ذبح کر دیں اس پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ سب لوگوں کے خوراک کے ذخیرے اکٹھے کر لئے جائیں اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے سب کو مساویانہ راشن بانٹنا شروع کر دیا۔“ پھر ایک اور روایت آتی ہے کہ: ( مطبوعه الفضل مئی ۱۹۴۹ء) بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم بعثا قبل السَّاحِل