مضامین بشیر (جلد 2) — Page 546
مضامین بشیر ۵۴۶ کہ وہ بہر حال بھوکا نہ رہے نگا نہ ہوا اور سر چھپانے اور سردی گرمی کے بچاؤ سے محروم نہ ہونے پائے۔اقتصادی مساوات کے متعلق ایک خاص نکتہ اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اسلام نے کیوں نہ جبری طریق پر دولت کی تقسیم کو بھی مساوی کر دیا یعنی جس طرح اسلام نے عدالتی معاملات میں پوری پوری مساوات قائم کی اور قومی اور ملکی عہدوں کی تقسیم کے معاملہ میں پوری پوری مساوات قائم کی اور تمدنی میل ملاقات کے معاملہ میں برادرانہ مساوات کا رنگ قائم کیا اور سب انسانوں کو ایک باپ کے بیٹے اور سب مسلمانوں کو بھائی بھائی قرار دیا اسی طرح اس نے کیوں نہ دولت کو بھی سارے انسانوں میں برابر تقسیم کرنے کی سکیم جاری کی؟ سواس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اسلام نے ایسا اس لئے نہیں کیا کہ ایسا کرنا ایک ظلم ہوتا اور اسلام ظلم کو مٹانے آیا ہے نہ کہ اسے قائم کرنے۔دولت کی اندھا دھند مسا و یا نہ تقسیم کے یہ معنی ہیں کہ ایک تو لوگوں کی ساری حاصل شدہ دولت ان سے جبری طور پر چھین لی جائے اور دوسرے آئندہ ان سے دولت پیدا کرنے کی طاقت اور دولت پیدا کرنے کا حق بھی چھین لیا جائے اور یہ دونوں باتیں ظلم میں داخل ہیں بے شک قومی حقوق کی خاطر انفرادی حقوق پر جائز پابندیاں لگائی جاسکتی ہیں اور بے شک افراد سے یہ مطالبہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ وہ قومی مفاد کی خاطر ضروری قربانی دکھا ئیں مگر افراد کے حقوق کو کامل طور پر مٹا کر قوم کے نام پر ان کے حقوق کو کلیۂ غصب کر لینا ظلم میں داخل ہے جس کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔علاوہ ازیں اگر غور کیا جائے تو اس رستہ پر پڑنے سے صرف انفرادیت ہی نہیں ملتی بلکہ بالآخر قومیت کا بھی خاتمہ ہو جاتا ہے۔کیونکہ قوم افراد کے مجموعہ کا نام ہے اور اگر افراد کو دولت کمانے اور اس کا پھل کھانے کے حق سے محروم کیا جائے گا تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ان سے دولت پیدا کر نے کا سب سے زبر دست فطری محرک کھویا جائے گا اور ظاہر ہے کہ اس محرک کے کھوئے جانے سے وہ بالآخر دولت پیدا کرنے کی قوت کو بھی ضائع کر دیں گے اور آہستہ آہستہ ان کے دماغی قومی میں انحطاط پیدا ہو جائے گا بے شک یہ خطرہ اس وقت صرف ایک موہوم خطرہ نظر آتا ہے لیکن ہر شخص جو صحیح تذبر کا مادہ رکھتا ہے سمجھ سکتا ہے کہ ایک زمانہ کے بعد اس قسم کے قومی خطرات حقیقت بن جایا کرتے ہیں۔علاوہ ازیں دولت کی کامل طور پر مساویانہ تقسیم خود اشترا کی ممالک میں بھی نہیں پائی جاتی مثلاً کیا مارشل سٹالن اور مسٹر مانوٹو و اور روس کے دوسرے صنادید اس قسم کا کھانا کھاتے ہیں جیسا کہ روس کا مزدور یا کسان کھاتا ہے یا اسی قسم کا کپڑا پہنتے ہیں جیسا کہ روس کا مزدور اور کسان پہنتا ہے یا اسی قسم