مضامین بشیر (جلد 2) — Page 541
۵۴۱ مضامین بشیر اسلام میں دولت کی تقسیم کا نظریہ اس کے بعد دولت کی تقسیم کا سوال آتا ہے جو آج کل کی اشتراکیت اور سرمایہ داری کی باہمی کشمکش کا جو لا نگاہ بنا ہوا ہے۔سو گو اس بحث کا اصل موقع تو انشاء اللہ دوسری جگہ آئے گا مگر اس جگہ مختصر طور پر اس قدر بیان کر دینا ضروری ہے کہ اس اہم سوال کے متعلق بھی اسلام نے ایک ایسی اعلیٰ اور وسطی تعلیم دی ہے جس کی نظیر کسی دوسری جگہ نہیں ملتی۔کیونکہ جہاں اسلام نے عام حالات میں دولت پیدا کرنے کے انفرادی حق کو تسلیم کیا ہے وہاں اس نے ملکی دولت کو سمونے کے لئے ایک ایسی مشینری بھی قائم کر دی ہے کہ اگر اسے اختیار کیا جائے تو کسی ملک یا کسی قوم کی دولت کبھی بھی عامتہ الناس کے ہاتھوں سے نکل کر چند افراد کے ہاتھوں میں جمع نہیں ہو سکتی۔میں اس جگہ اختصار کے خیال سے اس مشین کے صرف چار پرزوں کے بیان پر اکتفا کروں گا۔ا۔سب سے اول نمبر پر اسلامی قانون ورثہ ہے۔جس کی رو سے ہر مرنے والے کا ترکہ صرف ایک بچے یا صرف نرینہ اولا دیا صرف اولاد کے ہاتھ میں ہی نہیں جاتا بلکہ سارے لڑکوں اور ساری لڑکیوں اور بیوی اور خاوند اور ماں اور باپ اور بعض صورتوں میں بھائیوں اور بہنوں اور دوسرے رشتہ داروں میں ایک نہایت مناسب شرح کے ساتھ تقسیم ہو جاتا ہے۔اگر کوئی مسلمان زمیندار مرتا ہے تو اس کی زمین اس کے سب ورثا میں تقسیم ہوگی اگر کوئی دوکاندار مرتا ہے تو اس کی دوکان کا مال سب وارثوں کو پہنچے گا اگر کوئی کارخانہ دار فوت ہوتا ہے تو اس کے کارخانہ کا حصہ بھی سارے وارثوں میں بٹے گا۔وعلی ہذالقیاس اس طرح گویا اسلام نے دولت کی دوڑ میں تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد بعض قدرتی روکیں یعنی ہرڈلیں قائم کر دیں ہیں۔اور ہر نسل کے خاتمہ پر ایک روک یعنی ہرڈل سامنے آکر اس فرق کو کم کر دیتی ہے جو گذشتہ نسل کے دوران میں پیدا ہو چکا ہوتا ہے۔تقسیم ورثہ کا یہ قانون جس کامل اور مکمل صورت میں اسلام نے قائم کیا ہے وہ کسی اور جگہ نظر نہیں آتا اور اس قانون کی تفصیلات پر نظر ڈالنے سے جس کے بیان کرنے کی اس جگہ گنجائش نہیں صاف محسوس ہوتا ہے کہ اس نظام ورثہ میں صرف ورثا کو ورثہ پہنچانا ہی مد نظر نہیں ہے بلکہ ملکی دولت کو سمونا بھی اس کا ایک بڑا مقصد ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر مرنے والے کو اپنے مال کے ایک ثلث یعنی ایک تہائی کی وصیت کی اجازت بھی دی ہے اور یہ وصیت ورثا کے حق میں جائز نہیں رکھی گئی۔گویا اس ذریعہ سے اسلام نے ورثہ کی جبری تقسیم کے علاوہ اس بات کا دروازہ بھی کھولا ہے کہ نیک دل لوگ اپنے اموال کو مزید مستحقین میں تقسیم کرنے کا موقع پاسکیں مگر افسوس ہے کہ وصیت کے