مضامین بشیر (جلد 2) — Page 514
مضامین بشیر ۵۱۴ روحانی اصلاح اور ترقی کا پہلو اتنا نمایاں ہے کہ ہر صاحب علم اور صاحب ذوق شخص اس سے روحانی سرور اور تسکین حاصل کر سکتا ہے اور دراصل خدائی امتحانوں کا یہی منشا ہوا کرتا ہے کہ وہ جاگتے ہوؤں کو پہلے سے زیادہ ہوشیار اور سوتے ہوؤں کو خواب غفلت سے بیدار کر دیں۔پس اس جہت سے بھی گزشتہ فسادات اپنے اندر یقیناً ایک نشان کا پہلور کھتے ہیں۔۔اس نشان کا چھٹا پہلو یہ ہے کہ اس امتحان کے نتیجہ میں ایسے لوگ جو اپنی غفلت اور سستی اور دنیا داری کی وجہ سے گویا کچے دھاگوں کا حکم رکھتے تھے۔وہ موجودہ ابتلا کے نتیجہ میں ٹوٹ کر جماعت کو اپنے ماؤف وجود سے پاک کر رہے ہیں۔ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جماعتوں کو صرف تعداد سے غرض نہیں ہوتی بلکہ ان کے لئے تعداد کی ترقی سے بھی زیادہ روحانی اور تربیتی پہلو ا ہمیت رکھتا ہے اسی لئے خدا تعالیٰ کی یہ سنت ہے کہ وہ گا ہے گا ہے ایسے امتحانات مہیا کرتا رہتا ہے کہ جس کی وجہ سے کمزور لوگ جو جماعت کے ساتھ چلنے کی طاقت نہیں رکھتے اور دوسروں کے لئے بھی کمزوری کا موجب بن جاتے ہیں ، وہ تھک کر یا گھبرا کر خود بخود علیحدہ ہو جاتے ہیں۔یہ گویا ایک قسم کی شاخ تراشی ہوتی ہے جو ہمارا آسمانی باغبان اپنے باغ کے پودوں کی ترقی اور زینت کے لئے کرتا رہتا ہے کیونکہ اگر ایسا نہ ہو تو اچھے سے اچھا باغ بھی تھوڑے سے عرصہ میں خراب ہو کر تباہ و برباد ہو جاتا ہے۔یہ وہ نشانات ہیں جو موجودہ ابتلاء کے تعلق میں ہمارے خدا نے جماعت کی صداقت میں مہیا فرمائے ہیں اور اس جہت سے یہ کتنی خوشی کا مقام ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی تلخ قاشوں میں بھی اس کی محبت اور اس کی شفقت کی اتنی غیر معمولی شیرینی مخفی ہے۔وہ بظاہر جماعت کے لئے ایک بھاری امتحان مہیا کرتا ہے اور گویا ایک زلزلہ وار د کر کے بظاہر یہ منظر دکھاتا ہے کہ شاید اب سب کچھ تہ و بالا ہونے لگا ہے مگر اس زلزلہ کے ہنگامے میں بھی خدا کی یہ شیریں آواز سچے مومنوں کے کانوں میں پہنچتی رہتی ہے کہ گھبراؤ نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں اور یہ سارا انتظام تمہاری ہی ترقی کے لئے کیا جارہا ہے۔اب غور کرو کہ جب اس امتحان کے تلخ پہلو میں بھی ہمارے خدا کے اتنے نشان موجود ہیں تو کتنا بد بخت ہے وہ انسان جو اس امتحان کے نیک انجام کے متعلق شبہ میں پڑتا اور شک میں مبتلا ہوتا ہے؟ جب خدا نے ہجرت والے تلخ پہلو کے متعلق اپنی سنت اور اپنی قبل از وقت بتائی ہوئی بات کو پورا کیا اور امتحان کے دوران میں بھی اپنی شفقت کا ہاتھ جماعت کے سر پر رکھے رکھا تو کیا وہ اس خالص رحمت کے نشان کو پورا نہیں کرے گا جو ہمارے مقدس اور دائمی مرکز کی واپسی کے متعلق اس کی زبان سے جاری ہو چکا ہے؟ چنانچہ دیکھو کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام کتنا شاندار ہے کہ