مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 503 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 503

۵۰۳ مضامین بشیر وارث بنیں گے جو ازل سے جماعت احمدیہ کے لئے مقدر ہیں۔ہمارے کچھ امتحان تو گزر چکے اور کچھ گزررہے ہیں اور کچھ آئندہ آنے والے ہیں اور ممکن ہے کہ بعض آنے والے امتحان بعض لحاظ سے گزرے ہوئے امتحانوں سے بھی سخت تر ہوں اور شاید ان میں سے بعض میں ایسی تلخی کا پہلو پایا جائے جو عموما کامل شرینی سے قبل اپنی سخت ترین صورت میں ظاہر ہوا کرتی ہے۔پس دوستوں کو چاہیئے کہ ان ایام میں اصلاح نفس اور خدمت دین میں بیش از پیش حصہ لینے کے علاوہ خاص طور پر دعاؤں کی طرف توجہ دیں اور خدا کے آستانہ پر گر کر اور اس کے دامن سے لپٹ کر اس سے فضل و رحمت اور برکت و نعمت کے طالب ہوں اور اُسی سے اس بات کی تو فیق چاہیں کہ آنے والے امتحانوں میں اور نیز اس امتحان میں جس میں سے آج جماعت گذر رہی ہے۔جماعت اور افراد جماعت کا قدم ڈگمگانے اور لغزش کھانے کی بجائے بیش از پیش مضبوطی اور مستعدی کے ساتھ ترقی کی منازل کی طرف اٹھتا چلا جائے۔مگر یاد رکھنا چاہیئے کہ محض رسمی دعا کوئی حقیقت نہیں رکھتی اور حقیقی دعا وہی ہے جس کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : كَأَنَّكَ تَرَاهُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاهُ فَإِنَّهُ يَرَاكَا د یعنی اے مرد مومن ! دعا کے وقت تیری یہ کیفیت ہونی چاہیئے کہ گویا تو خدا کو دیکھ رہا ہے اور کم از کم یہ کہ خدا تجھے دیکھ رہا ہے“ یہ وہ کیفیت ہے جو مومن کی دعا میں گویا زندگی کی روح بھر دیتی ہے اور انسان کے دل و دماغ اور اس کے سارے اعضاء پکھل کر آستانہ الوہیت پر گر جاتے ہیں۔واقعی اگر پوری توجہ اور کامل انہاک اور ضروری سوز و گداز کے ساتھ دعا مانگی جائے اور زبان کے الفاظ کے ساتھ ساتھ روح کی مضطر بانہ تڑپ بھی شامل ہو تو سوائے ایسی باتوں کے جو خدا کی کسی سنت یا اس کے کسی وعدے کے خلاف ہوں۔سچے مومنوں کی دعائیں کبھی رد نہیں کی جاتیں۔یہ علیحدہ بات ہے کہ خدا کسی دعا کو اس رنگ میں قبول نہ کرے جو بندہ چاہے بلکہ اس رنگ میں قبول کرے جسے خود خدا بہتر خیال کرتا ہے۔بہر حال کچی دعا کبھی بھی ضائع نہیں جاتی بلکہ حدیث میں تو ہمارے آقا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم (فداہ نفسی ) یہاں تک فرماتے ہیں کہ ہمارا رحیم و کریم خدا اس بات سے شرماتا ہے کہ اپنے بندوں کے گریہ وزاری میں اٹھے ہوئے ہاتھوں کو خالی لوٹا دے۔پس دوستوں کو چاہیئے کہ ان فتنوں اور ابتلاؤں کے ایام میں پوری توجہ اور کامل انہماک اور سچی تڑپ کے ساتھ دعائیں کریں اور دعا کے وقت اپنے اندر یہ کیفیت پیدا کریں کہ گویا وہ خدا کو دیکھ رہے ہیں اور خدا انہیں دیکھ رہا ہے۔