مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 502 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 502

مضامین بشیر ۵۰۲ یہ فتنوں اور ابتلاؤں کے دن ہیں دوستوں کو خاص طور پر دعاؤں کی طرف توجہ دینی چاہیئے الہی سلسلوں کے ساتھ ابتلاؤں اور فتنوں کا دور بھی مقدر ہوتا ہے اور گو اسلامی تعلیم کے ماتحت خود کبھی بھی امتحان میں پڑنے کی خواہش نہیں کرنی چاہیئے۔لیکن خدا کی ازلی تقدیر بہر حال اسی طرح واقع ہوئی ہے کہ وہ مومنوں کو مختلف قسم کے امتحانوں اور ابتلاؤں میں سے گزار کر ترقی کی منزلوں کی طرف لے جاتا ہے۔چنانچہ ہر نبی اور ہر مصلح کی جماعت کو امتحان پیش آئے اور سب سے زیادہ امتحان صحابہ کی مقدس جماعت کو پیش آئے۔جنہیں گویا ابتلاؤں کی دہکتی ہوئی بھٹی میں سے گزرنا پڑا۔چنانچہ خدا تعالیٰ خود قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ أَحَسِبَ النَّاسُ أَنْ يُتْرَكُوا أَنْ يَقُولُوا أَمَنَّا وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ IO د یعنی کیا مومنوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ صرف منہ کے اس دعوی سے کہ ہم ایمان لے آئے ہیں چھوڑ دیئے جائیں گے اور انہیں ابتلاؤں کی بھٹی میں ڈال کر پرکھا نہیں جائے گا ؟ بلکہ حق یہ ہے کہ جتنا بڑا مقصد لے کر کوئی جماعت اٹھتی ہے اتنے ہی بڑے امتحانوں میں سے اسے گذرنا پڑتا ہے اور عام مومن تو الگ رہے اس قسم کے امتحانوں سے خدا کے برگزیدہ نبی بھی باہر نہیں ہوتے“ چنانچہ حضرت ابراہیم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَهِمَ رَبُّهُ بِكَلِمَةٍ فَأَتَمَّهُنَّ 1 و یعنی جب خدا نے بعض خاص احکام کے ذریعہ ابراہیم" کا امتحان لیا تو ابراہیم نے ان احکام کو پورا کر کے اس خدائی امتحان میں کامیابی حاصل کی پس ضروری ہے کہ ہماری جماعت بھی اپنے مقدر امتحانوں اور ابتلاؤں میں سے گزر کر منزلِ مقصود تک پہنچے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام رسالہ الوصیت اور اپنی دوسری تصنیفات میں بار بار فرماتے ہیں کہ مصائب کی آندھیاں چلیں گی اور حوادث کے زلزلے آئیں گے اور کئی کمزور ایمان لوگ لغزش کھائیں گے۔مگر مبارک ہیں وہ جو آخر تک ثابت قدم رہ کر خدا کے ان انعاموں کے