مضامین بشیر (جلد 2) — Page 498
مضامین بشیر ۴۹۸ سیرت خاتم النبین حصہ سوم کی تیاری اور دوستوں کو دعا کی تحریک جیسا کہ دوستوں کو معلوم ہے سیرت خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلے دو حصے طبع ہو کر شائع ہو چکے ہیں اور یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے کہ اس نے میری اس ناچیز تصنیف کو قبولیت کا شرف عطا فرمایا۔میں نے سیرت خاتم النبیین حصہ سوم کی تیاری کا کام قادیان میں ہی شروع کر دیا تھا لیکن چونکہ اس کے لئے مجھے اپنے فرائض منصبی کے علاوہ پرائیویٹ طور پر زائد وقت دینا پڑتا تھا ، اس لئے حصہ سوم کی تصنیف کی رفتار طبعاً بہت کم رہی۔کیونکہ اس قسم کی علمی تصنیف میں ضروری حوالہ جات کی تلاش اور متضاد حوالوں کی تطبیق اور کمزور حوالوں کی تردید بہت سا وقت لے لیتی ہے اور پھر غیر مسلم معترضین کے اعتراضوں کو بھی مدنظر رکھنا پڑتا ہے۔بہر حال خدا کا شکر ہے کہ گزشتہ فسادات کے دوران میں میرا یہ مسودہ ضائع ہونے سے بچ گیا اور گوموجودہ تصنیف شدہ حصہ میں صرف بنوقریظہ کے واقعہ سے لے کر بادشاہوں کے نام تبلیغی خطوط تک کے واقعات درج ہیں تاہم دوستوں کے مشورہ سے یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ فی الحال اسی قدر حصہ کو سیرت خاتم النبیین حصہ سوم جز واوّل کے طور پر شائع کر دیا جائے۔اس حصہ کا حجم غالباً تین سو صفحات کے قریب ہوگا اور اس میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سیرت کے بہت سے دوسرے واقعات کے علاوہ صلح حدیبیہ کا اہم واقعہ اور اسلام کا تبلیغی نظریہ اور قیصر و کسری کے نام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطوط کی روانگی (معہ فوٹو خط آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بنام قیصر روم ) اسلامی مساوات اور اسلام کے اقتصادی نظام اور اسلام کے سیاسی نظریہ اور اسلام کی امن اور جنگ کی طاقت کا موازنہ اور مسئلہ دعا اور معجزات وغیرہ وغیرہ کے متعلق کافی بحث آگئی ہے۔البتہ ایک کمی کا مجھے بہت احساس ہے اور وہ یہ کہ میری عادت ہے کہ شروع میں مضمون کا ایک بنیادی مسودہ جسے گویا ڈھانچہ کہنا چاہیئے تیار کر کے بعد میں نظر ثانی اور نظر ثالث کے وقت اس میں بہت