مضامین بشیر (جلد 2) — Page 481
۴۸۱ مضامین بشیر کے بالعموم اور مسلمانوں کے بالخصوص سب سے بڑے محسن ہیں۔آپ کے نامہ نگار کو یقیناً میرے الفاظ سمجھنے میں غلطی لگی ہے۔میرے الفاظ یہ تھے’ گاندھی جی ہم سب ہندوستانیوں کے محسن تھے۔اور خاص طور سے مسلمانوں کی حفاظت کی خاطر تو انہوں نے اپنی جان تک قربان کر دی یہ ہیں وہ الفاظ جو میں نے دل سے کہے اور یہ ہیں بھی صحیح۔اسی طرح میں نے یہ ہرگز نہیں کہا کہ ” مہاتما گاندھی ہمیشہ اسلامی اصولوں پر عمل پیرا ر ہے ایک سچا مسلمان کبھی بھی گاندھی جی کے تمام افعال کو اسلام کے مطابق قرار نہیں دے سکتا۔میں یہ امر بھی پورے زور کے ساتھ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ انڈین یونین کے ساتھ ہماری وفاداری کسی خوف یا طمع کے پیش نظر نہیں ہے۔اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ ہر شخص کو اس مملکت اور حکومت کا وفادار رہنا چاہیئے جس کا وہ شہری ہے۔دوسری طرف حکومت پر بھی فرض ہے کہ وہ سب کے ساتھ بلا تفریق بلا امتیاز منصفانہ سلوک کرے۔میں اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ کے اس تعاون کا بھی شکر یہ ادا کرتا ہوں جو آپ نے ہماری مشکلات اور تکالیف کے ازالہ کے لئے ہمارے ساتھ کیا۔اس وقت ہمارے مقدس مقام قادیان میں تین سو تیرہ احمدی قیود اور پابندی کی زندگی بسر کر رہے ہیں اور موجودہ حالات میں وہاں ہمارا مذ ہب اور ہماری تنظیم نہائت درجہ کمزوری کی حالت میں ہے۔ایسی حالت میں جو کوشش آپ نے حالات کو بہتر بنانے کے لئے کی ہے میری دعا ہے کہ خدا آپ کو اُس کا بہتر اجر عطا فرمائے۔نیازمند سید وزارت حسین پروونشل امیر جماعت احمد یہ بہار ۱۶ جنوری ۱۹۴۹ء مطبوعه الفضل یکم فروری ۱۹۴۹ء)