مضامین بشیر (جلد 2)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 458 of 1110

مضامین بشیر (جلد 2) — Page 458

مضامین بشیر ۴۵۸ ہستی باری تعالیٰ کے متعلق ایک صاحب کے تین سوالات ایک دوست جو اپنا نام محمد الیاس ظاہر کرتے ہیں اپنے خط میں مجھ سے ذیل کے تین سوال پوچھتے ہیں۔(1) اللہ تعالیٰ کی ذات کی ابتداء کہاں سے ہوئی ؟ (۲) خدا تعالیٰ کی شکل کیسی ہے؟ (۳) خدا تعالی یکدم سب کی دعا کس طرح سن لیتا ہے؟ یہ سوالات بظاہر بالکل سادہ اور عامیانہ ہیں بلکہ شاید بعض لوگ ان پر ہنسیں مگر اسی قسم کے سوالات فلسفیوں کو بھی پیدا ہوتے رہتے ہیں۔لیکن اس جگہ میں ان کا صرف مختصر اور سادہ جواب دوں گا جو عام لوگوں کو آسانی کے ساتھ سمجھ آسکے۔پہلا سوال یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ابتداء کہاں سے ہوئی ؟ سو اس کے جواب میں اچھی طرح سمجھ لینا چاہیئے کہ اگر غور کیا جائے تو دوسرے الفاظ میں اس سوال کا مطلب یہ بنتا ہے کہ خدا کا خالق کون ہے؟ مگر ظاہر ہے کہ خدا کے متعلق یہ سوال پیدا نہیں ہوسکتا کیونکہ خدا کو کل کائنات کا خالق مانا جاتا ہے اور جو ہستی کسی اور کی مخلوق ہو وہ خالق بالکل نہیں ہو سکتی۔یہ ایک بالکل موٹی اور عام فہم بات ہے کہ جو چیز مخلوق ہوگی وہ کسی صورت میں خدا نہیں سمجھی جاسکتی۔کیونکہ مخلوق ہونے کے یہ معنی ہیں کہ اس کا کوئی اور خالق ہے اور جب کوئی اور اس کا خالق ہوا تو پھر ظاہر ہے کہ اس صورت میں یہ خالق ہستی ہی خدا سمجھی جائے گی نہ کہ اس کے نیچے کی مخلوق ہستی۔پس ثابت ہوا کہ خدائیت اور مخلوقیت کا مفہوم دراصل ایک دوسرے سے قطعی طور پر متضاد واقعہ ہوا ہے۔اور عقلاً یہ سوال پیدا ہی نہیں ہوسکتا کہ خدا کی ابتداء کس طرح ہوئی۔اسی لئے حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکیداً فرمایا ہے کہ تم ہر چیز کے متعلق یہ سوال اٹھا سکتے ہو کہ اس کا خالق کون ہے مگر جب خدا پر پہنچو تو پھر اس سوال سے رک جاؤ۔بعض نادان خیال کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کے لئے علمی تحقیق کا رستہ بند کیا ہے۔حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے علم کا رستہ بند نہیں کیا بلکہ جہالت کا رستہ بند کیا ہے۔کیونکہ خدا کے متعلق یہ سوال اٹھانا کہ اس کا خالق کون ہے جہالت میں داخل ہے تم بے شک اگر سینہ زوری کرنا چا ہو تو خدا کا انکار کر سکتے ہو مگر خدا کو مان کر اس کے مخلوق ہونے کا سوال نہیں اٹھا سکتے۔باقی یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ قرآن شریف میں خدا کی ایک صفت الا ول بھی آئی ہے اور