مضامین بشیر (جلد 2) — Page 451
۴۵۱ مضامین بشیر دوست نے میرے مضمون کو غور سے نہیں پڑھا۔کیونکہ ان کے اس سوال کا اصولی جواب میرے مضمون کے اندر موجود تھا۔کیونکہ میں نے جو قر آنی آیت کی نقل کی تھی۔اس میں یہ بات صاف طور پر مذکور ہے کہ رزق کی ذمہ داری خدا نے خود اپنے ذمہ لی ہے۔چنانچہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ (یعنی نہ صرف تمہاری اولاد کو بلکہ خود تمہیں بھی رزق دینے والے ہم ط ۱۳۵ ہیں ) گویا خدا فرماتا ہے کہ جب ہم جو دنیا کے رازق ہیں خود یہ کہتے ہیں کہ غربت کے ڈر کی وجہ سے اولاد کو قتل نہ کرو۔تو تمہیں رازق کی ذمہ داری کے ہوتے ہوئے رزق کا خوف نہیں ہونا چاہیئے۔باقی رہا یہ سوال کہ دنیا میں کئی لوگ کثرت اولاد کی وجہ سے تنگ حالی میں مبتلا نظر آتے ہیں تو پھر اس صورت میں خدا کی ذمہ داری کے کیا معنے ہوئے ؟ سو اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود دوسری جگہ اس شبہ کا جواب دیا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔۱۳۹ وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللهِ رِزْقُهَا یعنی دنیا میں کوئی رینگنے والا جانور ایسا نہیں جس کا رزق خدا نے اپنے ذمہ نہ لے رکھا ہو۔‘“ اس آیت میں جو دابہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے یہی اس آیت کے صحیح معنوں کی کنجی ہے۔کیونکہ دابۃ کے معنے اس جانور کے ہیں جو زمین پر رینگ رینگ کر چلتا ہے، گویا آیت کے معنے یہ ہوئے کہ انسان زمین میں بالکل بے دست و پا ہو کر ہی نہ بیٹھ جائے۔بلکہ خدا کے پیدا کئے ہوئے اسباب کو ہاتھ میں لے کر کم از کم رینگتا رہے۔اور کچھ نہ کچھ حرکت کرتا رہے تو پھر وہ خدا کے رزق سے محروم نہیں رہتا۔ہاں اگر کوئی شخص گو یا بالکل ہی دھرنا مار کر بیٹھ جاتا ہے اور خدا کے پیدا کئے ہوئے اسباب کے ما تحت کسی قسم کی بھی جد و جہد نہیں کرتا تو پھر وہ گویا خدا کے قانون کا باغی بنتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اس صورت میں وہ خدا کی صفت رزاقیت سے حصہ نہیں پا سکتا۔پس خدا نے خود اپنی حکیم کتاب میں اس شبہ کا جواب دے دیا ہے جو ہمارے دوست کے دل میں پیدا ہوا ہے مگر افسوس ہے کہ دنیا میں اکثر لوگ صحیح طریق پر ہاتھ پاؤں ہلانے کے بغیر خدا کے رزق کے وارث بننا چاہتے ہیں۔بہر حال ہم تو اُس آقا کے غلام ہیں۔جس نے ایک دفعہ اپنے ایک بیمار صحابی کو جس کے پیٹ میں کچھ تکلیف تھی شہد استعمال کرنے کا مشورہ دیا۔مگر خدا کے کاموں میں بھی بعض اوقات امتحان مخفی ہوتے ہیں۔شہد کے استعمال نے اس صحابی کی تکلیف بڑہا دی اور اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر شکایت کی کہ یارسول اللہ میری تکلیف تو شہد کے استعمال سے زیادہ ہوگئی ہے۔آپ نے فرمایا خدا نے اس بیماری کے لئے شہد کو شفا قرار دیا ہے۔اس لئے میں تو بہر حال تمہارے پیٹ کو جھوٹا کہوں گا