مضامین بشیر (جلد 2) — Page 34
مضامین بشیر ۳۴ دل کا حلیم یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ ہر ہستی کا کلام اس کے علم اور اس کی شان کے مطابق ہوتا ہے۔چنانچہ جہاں ایک عام انسان کا کلام اپنے سطحی معنوں کے اندر محدود ہوتا ہے اور اس میں کوئی گہرائی نہیں پائی جاتی جس میں سننے والے کو غوطہ لگانے کی ضرورت پیش آئے۔وہاں ایک عالی مرتبہ عالم یا مدبر کا کلام اپنے اندر بہت سی گہرائیاں رکھتا ہے۔جن تک پہونچنے کے لئے کافی غور وخوض کی ضرورت ہوتی ہے۔ورنہ انسان ایسے کلام کے صحیح مفہوم کو نہیں سمجھ سکتا اور اس کے بہت سے لطیف پہلو نظر سے اوجھل رہ جاتے ہیں۔اسی طرح جہاں ایک عام انسان کے کلام میں کئی الفاظ زائد پائے جاتے ہیں ، جو وہ جہالت یا بے احتیاطی کی وجہ سے یا غیر محسوس تکرار کے رنگ میں یا بسا اوقات محض عبارت کی ظاہری خوبصورتی کی غرض سے استعمال کرتا ہے۔حالانکہ ان کے استعمال سے الفاظ کے معنوی حسن میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا بلکہ بعض اوقات اغلاق اور پیچیدگی کا رنگ پیدا ہو جاتا ہے۔وہاں ایک اعلیٰ درجہ کا عالم یا مد بر انسان ہر لفظ سوچ کر استعمال کرتا ہے اور اپنے کلام میں حتی الوسع کسی ایسے لفظ کو راہ نہیں دیتا جو زائد یا غیر ضروری یا معانی میں پیچیدگی پیدا کرنے والا ہو۔پس جب مختلف طبقوں کے انسانوں کے کلام میں یہ فرق پایا جاتا ہے تو عالم الغیب خدا اور اس کی پیدا کردہ ناقص العلم مخلوق کے کلام میں تو یہ فرق بہت زیادہ نمایاں صورت میں پایا جانا چاہیئے۔بلکہ حق یہ ہے کہ جہاں مختلف انسانوں کے کلام میں صرف درجہ کا فرق ہوتا ہے وہاں خدا اور انسان کے کلام میں محض درجہ کا ہی فرق نہیں ہوتا بلکہ دراصل خدا کا کلام اپنی نوعیت اور اپنی حقیقت میں انسانی کلام سے بالکل جدا اور نرالا ہوتا ہے اور نہ صرف یہ کہ اس کے کلام میں کوئی حصہ زائد اور غیر ضروری نہیں ہوتا بلکہ اس کا ہر لفظ اور ہر حرف اور ہر حرکت اپنے اندر ایک خاص حقیقت اور خاص غرض و غایت رکھتی ہے۔اس شاندار خصوصیت کا نظارہ قرآن شریف کے اوراق میں نمایاں طور پر نظر آتا ہے کیونکہ وہ خدا تعالیٰ کا خاص الخاص کلام ہے جو اس کی کامل اور ابدی شریعت کا حامل بن کر نازل ہوا ہے۔مگر خدائی کلام کی یہ خصوصیت قرآنی وحی تک ہی محدود نہیں بلکہ کم و بیش ہر الہام الہی میں نظر آتی ہے اور میں ذیل کی سطور میں ایک اسی قسم کی خصوصیت کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔کچھ عرصہ ہوا مجھے ایک دوست نے کہا کہ حضرت امیر المومنین خلیفه لمسیح الثانی ایدہ اللہ تعالی